30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4601 -[10] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَا جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ وَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمر سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاء الدُّنْيَا ثمَّ قَالَ الَّذِي يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ فَمَا جاؤوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيزِيدُونَ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری نے خبر دی اس حالت میں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے،ایک تارا ٹوٹا،اور روشنی پھیل گئی ۱؎ تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جاہلیت میں کیا کہتے تھے جب اس جیسا تارا ٹوٹتا تھا ۲؎ وہ بولے کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانیں۔ہم تو یہ کہتے تھے کہ آج رات یا تو کوئی بڑا آدمی ۳؎ پیدا ہوا یا کوئی بڑا آدمی مرا ہے۔تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ تارے نہ تو کسی کی موت کے لیے مارے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کیلیے ۴؎ لیکن ہمارا رب کہ مبارک ہے اس کا نام جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے ۵؎ تو حاملین عرش تسبیح کرتے ہیں پھر اس آسمان والے تسبیح کرتے ہیں جو انکے قریب ہیں حتی کہ تسبیح اس دنیا کے آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے ۶؎ پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ انہیں خبر دیتے ہیں ۷؎ فرمایا کہ پھر بعض آسمان والے بعض سے خبریں پوچھتے ہیں حتی کہ اس آسمان دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے۔ تو جنات سنی باتوں کو اچک لیتے ہیں ۸؎تو اپنے دوستوں تک ڈال دیتے ہیں اور مار دیئے جاتے ہیں ۹؎پھر کاہن جو کچھ اس کے موافق لاتے ہیں وہ حق ہے ۱۰؎ لیکن وہ تو اس میں جھوٹ ملادیتے ہیں اور بڑھادیتے ہیں ۱۱؎(مسلم) |
۱؎ کہ تھوڑی دیر کے لیے سارے عالم میں سرخ یا سبز یا سفید روشنی ہوگئی جب کہ اب بھی کبھی دیکھا جاتا ہے۔
۲؎ ان کا عقیدہ پوچھنا اس کی تردید کے لیے تھا اور اصل صحیح عقیدہ سمجھانے کے لیے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر شاندار انسان بنے گا اس کی خوشی میں تارا ٹوٹا۔
۴؎ یعنی تم لوگوں کا یہ خیال غلط ہے تاروں کے ٹوٹنے کا تعلق کسی انسان کی موت یا زندگی سے نہیں۔
۵؎ یعنی رب تعالیٰ عالم کے انتظام کے متعلق اپنے کسی فیصلہ کی خبر فرشتوں کو دیتا ہے کہ ہم نے فلاں قوم کو ذلیل کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
۶؎ جیسے بادشاہ جب اپنے خاص درباریوں کو اپنے کسی ارادے پر مطلع کرتا ہے تو درباری ادب سے سرجھکا کر کہتے ہیں حضور بالکل حق ہے بالکل درست ہے وغیرہ ایسے ہی فرشتے ارادۂ الٰہی کی خبر پاکر ادب سے تسبیح پڑھتے ہیں ۔خیال رہے کہ یہاں قضا یعنی فیصلہ الٰہی کا ذکر ہے نہ کہ مشورہ کا چنانچہ رب تعالیٰ نے فرشتوں کو خبر دی کہ"اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً"میں فیصلہ کی خبر نہ تھی بلکہ بطور مشورہ ان سے کہا گیا تھا کہ تمہاری اس میں کیا رائے ہے لہذا وہاں فرشتوں نے آزادی سے رائے ظاہر کردی کہ خلافت کے مستحق ہم ہیں اگر وہاں قضا و فیصلہ کی خبر ہوتی تو فرشتے وہاں بھی تسبیح ہی پڑھتے۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں قرآن کے احکام واجب العمل ہیں جیسے نماز و زکوۃ کا حکم مگر قرآنی مشورہ واجب العمل نہیں مستحب ہیں جیسے قرض کا لکھ لینا۔
۷؎ اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ رب تعالیٰ کی خبر صرف حاملین عرش ہی سنتے ہیں باقی فرشتوں کو پھر یہ لوگ بتاتے ہیں، دوسرے یہ کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کو ان پر مطلع فرمایا ہے ،حاملین عرش کو بلاواسطہ اور دوسرے فرشتوں کو ان حاملین کے ذریعہ سے۔
۸؎ اس طرح کہ جب یہ چیزیں دنیا کے آسمان یعنی پہلے آسمان والے فرشتوں کو ان کے اوپر والے بتاتے ہیں تو وہاں چھپے ہوئے جنات جو کان لگائے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں سن لیتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع