30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی جب وہ آوازختم ہوجاتی ہے اور فرشتوں کے دلوں سے وہ ہیبت جاتی رہتی ہے تو بعض فرشتے بعض سے پوچھتے ہیں یہ پوچھنا ایسا ہوتا ہے جسے طلباء سبق پڑھ کر آپس میں تکرار کرتے ہیں۔
۴؎ یعنی رب نے جو کچھ فرمایا بالکل حق فرمایا یہاں حق مقابل ہے باطل کا یا بمعنی ثابت ہے ۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ روزانہ کے واقعات کا ذکر رب تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے،گناہوں کی بخشش،مصیبتوں کا دورکرنا ، کسی قوم کی ترقی،کسی کا تنزل،بیماروں کی شفاء، تندرستوں کو بیمار کرنا،ذلیلوں کو عزت دینا،عزت والوں کو ذلیل کرنا فقیروں کو غنی کرنا،اغنیا ء کو فقیر بنادینا۔ غرض کہ لوح محفوظ میں تحریر قول میں لائی جاتی ہے۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ان فرشتوں کو علوم غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے اور جو فرشتے لوح محفوظ پر مقرر وہ تو کائنات کے ذرہ ذرہ سے خبردار ہیں۔
۵؎ یعنی زمین سے آسمان تک جنات کے پرے اوپر نیچے ایسے کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے مائل ہاتھ کی متفرق کھلی انگلیاں۔
۶؎ اس ڈالنے اور بتانے کا سلسلہ اس طرح چلتا ہے کہ آسمان سے قریب والے جن فرشتوں کی باتیں سن کر فورًا اپنے نیچے والے جن کو سنادیں اس نے اپنے نیچے والے کو اس نے اپنے نیچے والے کو حتی کہ آخری پرے نے اپنے دوست کاہن کو سنا دیں یہاں ساحر سے مراد کاہن نجومی ہے۔
۷؎ یعنی پہلا جن جو فرشتوں سے باتیں چراتا ہے اس کو شعلہ آگ کا ضرور لگتا ہے مگر کسی کو یہ خبریں سنادینے کے بعد اور کسی کو سنادینے سے پہلے پھر یہ شعلہ کبھی تو اس جن کو ہلاک کرتا ہے جلا کر اور کبھی جلاتا نہیں صرف دیوانہ کردیتا ہے۔ (مرقات)خیال رہے کہ ہلکی آگ کو قوی آگ فنا کرسکتی ہے۔جن ہلکی آگ سے پیدا ہیں اور شعلہ کی آگ بہت قوی ہوتی ہے۔لہذا یہ اسے جلا کر فنا کردیتی ہے۔
۸؎ یا تو پہلا جن ہی یہ ملاوٹ کردیتا ہے یا آخری جن جو کاہن کو سناتا ہے وہ ملاوٹ کرتا ہے دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۹؎ کاہن کی جھوٹی خبروں کی اشاعت نہیں کرتے لوگ اس ایک سچی خبر کی دھوم مچادیتے ہیں کہ فلاں خبر سچی تھی لہذا کاہن سچا ہے آج کل طبیبوں عاملوں کے متعلق یہ دیکھاجارہا ہے۔اگر کوئی طبیب پچاس بیماروں سے قبرستان بھردے مگر دو چار کو صحت ہوجائے تو اسکی صحت و شفاء کا شہرہ ہوتا ہے۔
|
4601 -[10] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَا جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ وَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمر سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاء الدُّنْيَا ثمَّ قَالَ الَّذِي يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ فَمَا جاؤوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيزِيدُونَ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری نے خبر دی اس حالت میں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے،ایک تارا ٹوٹا،اور روشنی پھیل گئی ۱؎ تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جاہلیت میں کیا کہتے تھے جب اس جیسا تارا ٹوٹتا تھا ۲؎ وہ بولے کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانیں۔ہم تو یہ کہتے تھے کہ آج رات یا تو کوئی بڑا آدمی ۳؎ پیدا ہوا یا کوئی بڑا آدمی مرا ہے۔تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ تارے نہ تو کسی کی موت کے لیے مارے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کیلیے ۴؎ لیکن ہمارا رب کہ مبارک ہے اس کا نام جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے ۵؎ تو حاملین عرش تسبیح کرتے ہیں پھر اس آسمان والے تسبیح کرتے ہیں جو انکے قریب ہیں حتی کہ تسبیح اس دنیا کے آسمان والوں تک پہنچ جاتی ہے ۶؎ پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ انہیں خبر دیتے ہیں ۷؎ فرمایا کہ پھر بعض آسمان والے بعض سے خبریں پوچھتے ہیں حتی کہ اس آسمان دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے۔ تو جنات سنی باتوں کو اچک لیتے ہیں ۸؎تو اپنے دوستوں تک ڈال دیتے ہیں اور مار دیئے جاتے ہیں ۹؎پھر کاہن جو کچھ اس کے موافق لاتے ہیں وہ حق ہے ۱۰؎ لیکن وہ تو اس میں جھوٹ ملادیتے ہیں اور بڑھادیتے ہیں ۱۱؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع