30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجہ سے بھی یہ قیاس قطعی ہے لہذا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے جو حرام جان کر ایسی حرکت کرے وہ سخت بدکار گنہگار ہے۔ اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں ملاحظہ فرماؤ۔خیال رہے کہ لڑکوں سے دبر میں صحبت کرناصریحی قطعی نص سے حرام ہے قوم لوط پر اسی وجہ سے عذاب آیا اور عورت سے دبر میں صحبت قیاس قرآنی سے حرام یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔لہذا اصول فقہ والوں کا اسے قیاس شرعی سے حرام فرمانا بالکل درست ہے جیسا کہ نور الانوار اور توضیح تلویح وغیرہ میں ہے۔
|
4600 -[9] عَن أبي هُرَيْرَة أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وهوَ العليُّ الكبيرُ فَسَمعَهَا مُسترِقوا السَّمعِ ومُسترقوا السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ «وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِكَفِّهِ فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ» فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ. فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ فكذب مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيَصْدُقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی چیز کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے پست ہو کر اپنے پر بچھادیتے ہیں ۱؎ اس کے فرمان پر گویا کہ وہ پتھر کی چٹان پر زنجیر ہے ۲؎ پھر جب ان کے دلوں سے کھول دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ۳؎ وہ کہتے ہیں رب کے فرمودہ کے متعلق کہ حق فرمایا ۴؎ اور وہ بلند ہے بڑائی والا تو اسے چھپ کر سننے والے اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے بعض بعض کے اوپر ہوتے ہیں سفیان نے اپنے ہاتھ سے یوں بیان کیا کہ اسے مائل کیا اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی ۵؎ تو وہ بات سنتا ہے اسے اپنے نیچے والے کیطرف ڈال دیتا ہے پھر دوسرا اسے اپنے نیچے والے کی طرف ڈالتا ہے ۶؎ حتی کہ اسے جادو گر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے تو اکثر شہاب اسے ڈالنے سے پہلے لگ جاتا ہے اور اکثر وہ اسے لگنے سے پہلے ڈال دیتا ہے ۷؎ تو اس کے لیے سو جھوٹ بنا دیتا ہے ۸؎ تو کہا جاتا ہے کہ کہا اس نے ہم سے فلاں فلاں دن فلاں فلاں بات نہ کہی تھی اسی ایک وجہ سے اس کاہن کی تصدیق کی جاتی ہے مگر آسمان سے سنی گئی۹؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی فیصلہ کا فرشتوں میں اعلان فرماتا ہے تو فرشتے اظہار انکسار کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔بعض فرشتوں کے دو پر ہیں بعض کے تین بعض کے چار۔
۲؎ یعنی فرمان الٰہی کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے صاف چکنے پتھر والے لوہے کی پتلی زنجیر کھینچو نہایت باریک اس کا سمجھنا بہت دشوار الفاظ غیر واضح۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع