دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

الفصل الثانی

دوسری فصل

4598 -[7]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا ۱؎ جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔

۲؎ یعنی جس قدر علوم نجوم میں زیادتی کرے گا۔اس قدر گویا جادو میں زیادتی کرے گا اپنے گناہ بڑھائے گا۔لہذا دونوں جگہ زاد بمعنی ماضی ہے اور مازاد میں ما بمعنی مادام ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ زاد مازاد حضرت عبداللہ ابن عباس کا قول ہے اور زاد کا فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حضور نے علم نجوم کی برائی میں بہت زیادتی فرمائی لہذا مازاد مفعول ہے زاد کا۔(اشعہ اللمعات)پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ تاروں سے بارش کا وقت،آندھیاں چلنا سردی گرمی،ارزانی گرانی آیندہ کے حالات معلوم کرنا حرام ہے کہ یہ علوم غیبیہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر ان سے اوقات اور راستے،سمت قبلہ معلوم کرنا بالکل حق ہے۔چاند کے طلوع کی خبر جو بذریعہ تاروں کے دی جائے شرعًا معتبر نہیں حضرت فرماتے ہیں کہ علم نجوم اس قدر حاصل کرو جس سے تم سمت قبلہ اورر استے معلوم کرلو پھر باز رہو(مرقات)لہذا علم توقیت برحق ہے۔یوں ہی علم  ریاضی ، علم ہیئت وغیرہ درست ہے اپنی حد میں رہ کر۔

4599 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ أَوْ أَتَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَو أَتَى امْرَأَته من دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ کاہن کے پاس جائے ۱؎ پھر اس کی تصدیق کرے یا اپنی بیوی کے پاس بحالت حیض جائے یا اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جاوے تو وہ اس سے بری ہوگیا جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ۲؎(احمد،ابوداؤد)

۱؎ کاہن و عراف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ جو آئندہ کی خبریں دے عراف وہ جو موجود چھپی خبریں بتائے کہ تمہاری چوری فلاں نے کی ہے فلاں چیز فلاں جگہ رکھی ہے۔

 ۲؎ بحالت حیض یا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے اس کا حلال جاننے والا کافر ہے وطی بحالت حیض کی حرمت تو نص قرانی سے ثابت ہے فرماتاہے:"لَا تَقْرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ"اور فرماتاہے:"قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"مگر دبر میں صحبت کی حرمت احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور اشارۃً قرآن سے بھی اور وطی بحالت حیض کی حرمت پر قیاس کی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن