دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۲؎ یعنی فرشتوں کا مقام آسمان ہے وہاں ان کو احکام الہیہ واقعات عالم کی اطلاع پہنچتی ہے پھر فرشتے آسمان سے اتر کرفضا میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہاں آپس میں ایک دوسرے سے ان غیبی واقعات کا ذکر کرتے ہیں یہاں شیاطین چوروں کی طرح چھپ کر سن لیتے ہیں۔

 ۳؎ یعنی یہ شیاطین اگر ایک ہونے والی بات فرشتوں سے سنتے ہیں تو سو جھوٹی باتیں ملا کر ایک سو ایک باتیں اپنے کاہنوں کو سنا جاتے ہیں یہ سو باتیں جھوٹی ہوتی ہیں وہ ایک بات سچی ہوتی ہے لوگ اس ایک بات سچی کی سچائی دیکھ کر کاہنوں کو سچا سمجھ لیتے ہیں۔

4595 -[4]

 وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لم تقبل صَلَاة أَرْبَعِينَ لَيْلَة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضر ت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کوئی نجومی کے پاس گیا ۱؎ پھر اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس شب کی نمازیں قبول نہ ہوں گی ۲؎(مسلم)

۱؎ اسے سچا سمجھ کر اس سے آیندہ غیبی خبریں پوچھنے کے لیے گیا اس کی وہ سزا ہے جو یہاں مذکور ہے لیکن اگر کوئی اسے جھوٹا سمجھ کر لوگوں کو اس کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لیے اس کے پاس گیا اس سے کچھ پوچھا تاکہ اس کی جھوٹی خبر لوگوں کو سنادے اس کی یہ سزانہیں۔

 ۲؎ یعنی اس کی یہ نمازیں ادا ہوجائیں گی اللہ کے ہاں ان کا ثواب نہ ملے گا جیسے غصب شدہ زمین میں نماز کہ اگرچہ ادا تو ہوجاتی ہے مگر اس پر ثواب نہیں ملتا لہذا ان نمازوں کا لوٹانا اس پر لازم نہیں ۔خیال رہے کہ نیکیوں سے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں۔مگر گناہوں سے نیکیاں برباد نہیں ہوتیں وہ تو صرف ارتداد سے برباد ہوتیں ہیں(مرقات)اور جب نمازیں ہی قبول نہ ہوئیں تو دوسری عبادتیں بھی قبول نہ ہوں گی بعض شارحین نے فرمایا کہ چالیس راتوں کی نمازیں سے مراد تہجد کی نمازیں ہیں۔فرائض و واجبات قبول ہوجائیں گے مگر حق یہ ہے راتوں سے مراد دن و رات سب ہیں اورکوئی نماز قبول نہیں ہوتی (اشعہ)دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوتی بہرحال نجومیوں سے غیب کی خبریں پوچھنا بدترین گناہ ہے۔

4596 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكم؟» قَالُوا: الله وَرَسُوله أعلم قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤمن بالكوكب "

روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی ۱؎ جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و منکر نے صبح پائی ۲؎ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری ۳؎ لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی ۴؎ تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن(مسلم، بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن