30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ ابین بروزن افعل ایک شخص کا نام ہے جس نے شہر عدن آباد کیا اس لیے اسے عدن ابین کہا جاتا ہے، یمن کے علاقہ میں ایک شخص کا نام بھی ابین ہے جو دریا کے قریب ہے،ایک شہر کا نام بھی ابین ہے،غرضکہ ابین بہت چیز کے نام ہیں جیسے ہمارے ہاں پنجاب میں بہاول ایک شخص کا نام تھا اب بہاول پور،بہاول نگر شہروں کے نام ہیں اور بہاول بخش،بہاول خان آدمیوں کے نام ہیں۔
۳؎ یعنی وہ زمین بہت ہی زرخیز ہے۔اس کے کچھ حصہ میں باغ ہے اور کچھ حصہ میں کھیت،یہاں کی پیداوار دور جاتی ہے یا اس میں باغ ہے اور باغ کے درمیان کھیت جیساکہ اب بھی مدینہ منورہ میں دیکھا جاتا ہے۔
۴؎ قرف کے معنی ہیں قرب یعنی نزدیک ہونا یعنی ایسے وبائی زمین میں رہنا ہلاکت کا سبب ہے یہ طبی مشورہ کے طور پر فرمایا کہ جس جگہ کی آب و ہوا موافق نہ ہو وہاں سے چلا جائے یہ مرض اڑکر لگنے کا مسئلہ نہیں اطباء بیماروں کو پہاڑوں پر بھیج دیتے ہیں گرم علاقہ سے منتقل کردیتے ہیں اسی وجہ سے اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پایہ کی احادیث ممانعت ہیں،فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں وباء پھیل جائے وہاں سے بھاگو مت اور جہاں وبا پھیلی ہو وہاں جاؤ مت۔خیال رہے کہ گرنے والے مکان سے بھاگ جانا،زلزلہ کی حالت میں گھر سے باہر نکل جانا خلاف توکل نہیں مگر وبائی جگہ سے بھاگ جانا خلاف توکل ہے۔
|
4591 -[16] عَن عُرْوَة بن عَامر قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عروہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا ۱؎ تو فرمایا ان میں اچھی فال ہے اورکسی مسلمان کو نہ لوٹائے ۲؎ تو جب تم میں سے کوئی وہ دیکھے جسے ناپسند کرتا ہو تو کہہ دے الٰہی بھلائیاں تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیاں تیرے سوا کوئی نہیں دور کرتا، نہیں ہے طاقت اور نہیں ہے قوت مگر اللہ سے ۳؎ (ابوداؤد ارسالًا) |
۱؎ کہ لوگ بعض چیزوں سے بدشگونی لیتے ہیں بعض سے اچھا شگون اس کی حقیقت کیا ہے تب حضور نے وہ جواب دیا جو یہاں مذکور ہے۔
۲؎ فال سے مراد نیک فال ہے جو اچھی بات اچھا نام سننے سے لی جائے یعنی یہ جائز ہے لیکن کوئی شخص کسی کام کو جاتے وقت ناپسندیدہ چیز دیکھے یا سنے جس سے بدشگونی لی جائے تو وہ محض اس وجہ سے اپنے کام سے واپس نہ ہو،اللہ پر توکل کرے اور کام کو جائے۔
۳؎ یہ عمل بہت ہی مجرب ہے ان شاءالله اس دعا کی برکت سے کوئی بری چیز اثر نہیں کرتی تمام مروجہ بدفالیوں بدشگونیوں کا بہترین علاج ہے۔والله اعلم!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع