30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4588 -[13] وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ فَإِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمه فَرح بِهِ ورئي بشر ذَلِك على وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ على وَجْهِهِ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَة ذَلِك فِي وَجهه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزوں سے فال لیتے تھے چنانچہ آپ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام آپ کو پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے ۱؎ اور اس کی خوشی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی ۲؎ اور جب کسی بستی میں جاتے تو اس کا نام پوچھتے تو اگر اس کا نام پسند فرماتے تو اس سے خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپ کے چہرہ انور میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند فرماتے تو آپ کے چہرہ میں اس کی ناپسندیدگی محسوس ہوتی ۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے نام اچھے رکھو نام کا اثر نام والے پر پڑتاہے،برے نام والے کو لوگ اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے،اچھے نام والے کے کام بھی ان شاءالله اچھے ہوتے ہیں۔
۲؎ یعنی حضور برے ناموں کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا جمرہ(انگارہ)کہا کس کا بیٹا ہے کہا شہاب کا(شعلہ)کہا تو کہاں رہتا ہے بولا حراقہ میں(جلن)کہا کس محلہ میں بولا بحرۃ النار میں (آگ کا دائرہ)فرمایا کس طرف بولا ذات نطی میں،آپ نے فرمایا تو اپنا گھر جا کر دیکھ جل چکا ہے دیکھا تو واقعی گھر اور گھر والے جل چکے تھے۔عرب کہتے ہیں الاسماء من السماء نام آسمان سے تعلق رکھتے ہیں۔(مرقات) اہل عرب اپنے بیٹو ں کا نام رکھتے تھے اسد(شیر) ذئب (بھیڑیا) کلب (کتا)اور اپنے غلاموں کے نام رکھتے تھےراشد نجیح اور کہتے تھے کہ ہمارے غلام ہماری خدمت کے لیے ہیں اور ہمارے بیٹے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں،غلاموں کے نام اچھے رکھو۔
۳؎ ہمارے ہاں پنجاب میں بعض دیہات کے نام ہیں نور پور،مدینہ،جمالپور ایسے نام بڑے مبارک ہیں،بعض بستیوں کے نام ہیں شیطانیہ،خونی چک وغیرہ یہ نام اچھے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بستیوں کے برے نام بھی ناپسند فرماتے تھے۔
|
4589 -[14] وَعَن أنس قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثُرَ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ قَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذروها ذميمة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم ایک گھر میں تھے جس میں ہماری تعداد اور ہمارے مال زیادہ ہوگئے پھر ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے جس میں ہماری تعداد و مال گھٹ گئی تو فرمایا اسے برا کر کے چھوڑ دو ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان عالی کی بہت حکمتیں ہیں: ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ اس زمین میں رہتے تو ہر وقت ان کے دلوں میں وسوسہ آتے دلوں کو سکون و چین میسر نہ ہوتا نہ معلوم کب کیا مصیبت آجائے گی گویا اس زمین کا چھوڑنا ان حضرات کے سکون قلبی کا ذریعہ تھا جس سے انہیں عبادات میں لذت ہو۔
|
4590 -[15] وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَنَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا أَبْيَنُ وَهِيَ أَرْضُ رِيفِنَاوَمِيرَتِنَا وَإِنَّ وَبَاءَهَا شَدِيدٌ. فَقَالَ: «دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ من القَرَف التّلف» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے یحیی ابن عبداللہ بن بحیر سے فرماتے ہیں کہ مجھے اس نےخبر دی جس نے فروہ ابن مسیک کو کہتے سنا ۱؎ کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے ۲؎ اور وہ ہماری باغ اور کھیتی کی زمین ہے۳؎ اور اس کی وبا بہت سخت ہے تو فرمایا اسے اپنے سے جدا کردو کیونکہ قرف سے ہلاکت ہے۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ یحیی ابن عبداللہ صنعان کے باشندے ہیں ،ان سے حضرت معمر نے احادیث روایت کیں اور فروہ ابن مسیک صحابی ہیں، مسیک تصغیر ہے مسیک کی،آپ مرادی غطیفی ہیں،اہل یمن سے ہیں،حضور کی خدمت میں ۹ ہجری میں آئے،ایمان لائے عہد فاروقی میں کوفہ رہے،اپنی قوم کے سردار بڑے اعلیٰ درجہ کے شاعر ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع