دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

باب الفال و الطیرۃ

فال اور بدفال لینے کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  محاورہ عرب میں فال ہر اچھی بری شگون کو کہتے ہیں اور طیرہ عمومًا بدفالی کو کہا جاتا ہے۔طیرہ بمعنی تطیر ہے جیسے خیرۃ اور تحیرا اس کے لفظی معنی ہیں اڑانا۔اہلِ عرب جب کسی کام کو جاتے تو کسی بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتے اگر داہنی طرف اڑ جاتا تو سمجھتے کہ ہمیں کامیابی ہوگی ،اگر بائیں طرف اڑتا تو کہتے کہ ناکامی ہوگی پھر اس کام کو جاتے ہی نہیں،اگر اوپر یا نیچے کی طرف اڑتا تو سمجھتے کہ کام میں دیر لگے گی رکاوٹ ہوگی،پھر اس کا استعمال مطلقًا فال یا بدفالی میں ہوگیا۔یوں ہی اگر شکاری جانور داہنی طرف نظر پڑتا اسے بروج کہتے اور بائیں طرف نظر آنے کو سنوح،بروج سے نیک فال لیتے،سنوح سے بدفالی، سوانع وبوارح سے ممانعت کے یہ ہی معنی ہیں۔خیال رہے کہ نیک فال لینا سنت ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے امید ہے اور بدفالی لینا ممنوع کہ اس میں رب سے نا امیدی ہے۔امید اچھی ہے نا امیدی بری،ہمیشہ رب سے امید رکھو۔

4576 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَة يسْمعهَا أحدكُم»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بدفالی کچھ نہیں ۱؎ بہترین چیز فال ہے لوگوں نے عرض کیا فال کیا چیز ہے فرمایا وہ اچھا لفظ جسے تم میں کوئی سنے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ غالبًا یہاں طیرہ سے مراد بدفالی لینا ہے خواہ پرندے سے ہو یا چرندہ جانور سے یا کسی اور چیز سے کیونکہ بدفالی مطلقًا ممنوع ہے،قرآن مجید میں تطیر اور طائر بمعنی بدفالی آیا ہے،رب فرماتاہے:"قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ"اور فرماتاہے:"قَالُوۡا طٰٓئِرُکُمْ مَّعَکُمْ"۔مقصد یہ ہے کہ اسلام میں بدفالی کوئی شیئ نہیں کسی چیز سے بدفالی نہ لو۔

۲؎  جیسے کوئی شخص کسی کام کو جارہا ہے کسی سے آواز آئی اے نجیح یا اے برکت یا اے رشیدیہ جانے والا یہ الفاظ سن کر کامیابی کا امیدوار ہوگیا یہ بالکل جائز ہے۔بعض دکاندار صبح کو یارزاق،گمشدہ کے متلاشی یا واجد،مسافر لوگ یا سالم،حاجی و غازی لوگ یا منصور یا مبرور اور زائر لوگ یا مقبول سن کر خوش ہو جاتے ہیں یہ سب اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔

4577 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامة وَلَا صقر وفر الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑکر لگنا ہے ۱؎  نہ پرندہ نہ الو ۲؎ نہ صفر کوئی چیز ہے۳؎  اور کوڑھی سے ایسے بھاگے جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۴؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن