30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کرکے لقمہ کھائے اور اگر نجاست لگ گئی ہے تو دھوکر کھالے،اگر دھل نہ سکے تو کتے بلی کو کھلادے یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اسمیں مال ضائع کرنا ہے اور رب تعالٰی کی نعمت کی ناقدری ہے۔
۳؎ کہ اس چھوڑے ہوئے لقمہ کو یا تو شیطان کھا ہی لے گا یا اسکے ضائع ہونے پر خوش ہوگا شیطان کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
۴؎ لہذ کچھ بھی نہ چھوڑے سب ہی چاٹ لے،اگر فی آدمی ایک ماشہ کھانا بھی برتن میں لگا رہا جو برتن دھوتے ہوئے نالیوں میں گیا تو حساب لگالو کہ جس شہر میں آٹھ دس لاکھ آدمی رہتے ہوں تو دو دفعہ کتنا کھانا نالیوں میں جاتا ہے،یہ فضول خرچی بھی ہے،مال ضائع کرنا بھی،کھانے کی بے ادبی بھی اس لیے کچھ بھی نہ چھوڑو برتن کو اچھی طرح صاف کرو کھانے کا احترام و ادب یہ ہی ہے یا اتنا چھوڑو کہ دوسرا آدمی کھاسکے۔
|
4168 -[10] وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا آكل مُتكئا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں تکیہ لگا کر نہ کھاؤں گا ۲؎ (بخاری) |
۱؎ آپ کا نام وہب بن عبدالله سوائی ہے یعنی سواء ابن عامہ سے ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے مگر حضور سے روایات لی ہیں،آپ کو حضرت علی رضی الله عنہ نے وزیر خزانہ بنایا تھا،آپ حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک رہے،آپ کوفہ میں ۷۴ھ میں فوت ہوئے،آپ سے آپ کے بیٹے عوذ نے اور بہت سے تابعین بلکہ حضرت علی نے بھی روایات لیں۔(اشعہ ومرقات)
۲؎ کھاتے وقت تکیہ لگانے کی چارصورتیں ہیں:ایک یہ کہ ایک پہلو زمین سے قریب کرکے بیٹھے،دوسرے یہ کہ چار زانو بیٹھے،تیسرے یہ کہ ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے،چوتھے یہ کہ دیوار وغیرہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے یہ چاروں تکیے مناسب نہیں۔دو زانو یا اکڑوں بیٹھ کر کھانا اچھا ہے طبی لحاظ سے بھی مفید ہے،کھڑے ہوکر کھانا اچھا نہیں۔(اشعۃ اللمعات)
|
4169 -[11] وَعَن قَتَادَة عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرَّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قِيلَ لِقَتَادَةَ: على مَ يَأْكُلُون؟ قَالَ: على السّفر. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ وہ حضرت انس رضی الله عنہ سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہ تو میز پر کھانا کھایا نہ چھوٹی پیالی میں۲؎ اور نہ آپ کے لیے چپاتی پکائی گئی ۳؎ قتادہ رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کس چیز پر وہ حضرات کھاتے تھے تو فرمایا دستر خوانوں پر ۴؎(بخاری) |
۱؎ قتادہ تابعی ہیں،بصری ہیں،نابینا تھے،ان کی ولادت ۶۰ھ میں ہے اور وفات ۱۱۷ ہجری میں حضرت انس اور ابوطفیل سے روایات لیتے ہیں۔
۲؎ کیونکہ میز پر کھانا طریقہ منکرین ہے تاکہ کھانے کے آگے جھکنا نہ پڑے اور بہت چھوٹی پیالی میں کھانا طریقہ بخیلوں کا ہے تاکہ دوسرا آدمی ساتھ نہ کھاسکے،ساری بوٹیاں اور سالن ہم اکیلے ہی کھائیں۔سنت یہ ہے کہ کھانے کے آگے قدرے جھک کر بیٹھے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع