30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ نہار منہ فصد یا مطلقًا فصد کے یہ فوائد ہیں،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے بشرطیکہ ضرورۃً استعمال کی جاوے۔
۴؎ کیونکہ یہ دن فصد کے لیے اچھے نہیں اللہ تعالٰی نے بعضے دنوں میں بعض خصوصیات رکھی ہیں اس کی حکمتیں وہ ہی جانتا ہے۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ آٹھ،اٹھارہ،اٹھائیس،اور تین،تیرہ،تئیس تاریخوں میں نکاح نہ کرے یہ تاریخیں نکاح کے لیے اچھی نہیں۔علامہ شامی نے لکھا کہ بدھ کے دن بیمار پرسی نہ کرے کہ لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔
۵؎ ایوب علیہ السلام نے بدھ کے دن فصد لی تو آپ پر بیماری مسلط ہوئی یا بدھ کے دن آپ کی بیماری کی ابتداء ہوئی۔معلوم ہوا کہ بدھ کا دن عتاب کا دن ہے بلکہ بعض قوموں پر بدھ کے دن عذاب آیا لہذا یہ دن کفار پر عذاب کا بھی ہے اورمنحوس ہے،رب تعالی بدھ کے متعلق فرماتا ہے :"یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ"۔اس سے ثابت ہوا کہ عتاب وعذاب کا دن دائمی منحوس ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ رحمت کا دن دائمی مبارک ہو لہذا پیر کا دن بڑا ہی مبارک ہے کہ حضور انور کی ولادت کا دن ہے۔
۶؎ اس سے پتہ لگا کہ بدھ کے دن کی نحوست دائمی ہے،بعض روایات میں ہے کہ پیر کے دن ایوب علیہ السلام کو شِفا عطا ہوئی۔
|
4574 -[61] وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحِجَامَةُ يَوْمُ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ دَوَاءٌ لِدَاءِ السَّنَةِ» . رَوَاهُ حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكِرْمَانِيُّ صَاحِبُ أَحْمَدَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى |
روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مہینہ کی سترہ تاریخ منگل کے دن فصد لینا سال بھر کی بیماری کی دوا ہے ۱؎ اسے حرب ابن اسمعیل کرمانی نے جو احمد کے ساتھیوں سے ہیں روایت کیا اور اس کی اسناد ایسی قوی نہیں یوں ہی منتقیٰ میں ہے۔ |
۱؎ یعنی اگر چاند کی سترہ تاریخ کو منگل کا دن ہو تو اس دن فصد لینا ایک سال تک متعلقہ بیماریوں کا علاج ہے۔ جن احادیث میں ہے کہ منگل کے دن فصد نہ لو کہ اس میں ایک ساعت خون کی ہے کہ اس وقت کا خون بہا ہوا بند نہیں ہوتا اس سے وہ منگل مراد ہے جو سترھویں تاریخ کے علاوہ ہو لہذا احادیث میں تعارض نہیں یہ حدیث مختلف الفاظ سے منقول ہے۔
|
4575 -[62] وروى رزين نَحوه عَن أبي هُرَيْرَة |
اور رزین نے اس کی مثل ابوہریرہ سے روایت کیا ۱؎ ہے۔ |
۱؎ محدثین کی اصطلاح میں بذالك سے مراد ہوتا ہے قوی یا صحیح منتقیٰ ابن جارود کی کتاب ہے فن حدیث میں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع