30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ ظاہر یہ ہے کہ خالص پانی ہی لگایا گیا۔اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث تجربہ سے بھی قوی ہے حدیث کو قوت بہت وجہ سے حاصل ہوتی ہے جن میں سے ایک وجہ تجربہ بھی ہے یہاں اسی کا ذکر ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں ملاحظہ کرو۔گویا یہ حضور انور کا فرمان ہے اور ایک صحابی کا تجربہ لہذا حدیث بہت قوی ہے۔
|
4570 -[57] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ فِي كلِّ شهر لم يصبهُ عَظِيم الْبلَاء» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مہینہ میں جو شخص تین صبح شہد چاٹ لیا کرے تو اسے بڑی بلا نہ پہنچے گی ۱؎ |
۱؎ یعنی شہد کے اس طرح استعمال سے چھوٹی بیماریاں تو کیا شی ہیں بڑی بیماریاں بھی نہیں لگتیں۔احادیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ صبح کو ایک پیالہ شہد کا شربت پیا کرتے تھے۔شارحین کہتے ہیں کہ شہد کے شربت میں ایسی تاثیریں ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء بھی ناواقف ہیں،بلغمی بیماریوں کے لیے شہد بہت مفید ہے۔(اشعہ)
|
4571 -[58] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ ". رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْأَخِيرَ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شفائیں اختیارکرو شہد اور قرآن ۱؎ ان دونوں حدیثوں کو ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور کہا صحیح یہ ہے کہ آخری حدیث حضرت ابن مسعود پر موقوف ہے۔ |
۱؎ یعنی دنیاوی و دینی بلاؤں سے شفاء یا ظاہری امراض سے،ظاہری و باطنی شفا شہد اور قرآن ہے ان دونوں کا شفا ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے،شہد کے متعلق فرمان الٰہی ہے "فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ" قرآن کریم کے متعلق فرماتاہے:"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ"اور فرماتاہے:"وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ"یعنی بیماریوں میں شہد بھی استعمال کرو اور قرآنی آیات بھی دم کرو اگر شہد پر آیات دم کرکے کھایا جاوے تو سبحان الله نور پر نور ہے۔
|
4572 -[59] وَعَن أبي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ قَالَ مَعْمَرٌ:فَاحْتَجَمْتُ أَنَا مِنْ غَيْرِ سُمٍّ كَذَلِكَ فِي يَافُوخِي فَذَهَبَ حُسْنُ الْحِفْظِ عَنِّي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ رزين |
روایت ہے ابوکبشہ انماری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کھوپڑی پر زہریلی بکری کی وجہ سے فصد کروائی ۱؎ معمر کہتے ہیں ۲؎ کہ پھر میں نے بغیر زہر کے اسی طرح اپنی کھوپڑی میں فصد کرالی تو میرے حافظہ کی عمدگی جاتی رہی حتی کہ مجھے نماز میں سورۂ فاتحہ بتائی جانے لگی۳؎(رزین) |
۱؎ خیبر میں ایک یہودیہ نے بکری کے گوشت میں حضور انور کو زہر دیا زہر بہت سخت تھا یہ گوشت بشر ابن براہ ابن معرور نے بھی کھایا وہ وہاں ہی وفات پا گئے،یہ فقیر ان کی قبر انور پر حاضر ہوا جو خیبر میں ہے۔ حضور نے حکم دیا تو وہ گوشت جلاکر دفن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع