30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4567 -[54] وَعَن عَليّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلِهِ فَقَتَلَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَيْرَهُ أَوْ نَبِيًّا وَغَيْرَهُ» ثُمَّ دَعَا بملحٍ وماءٍ فَجعله فِي إِناءٍ ثمَّ جَعَلَ يَصُبُّهُ عَلَى أُصْبُعِهِ حَيْثُ لَدَغَتْهُ وَيَمْسَحُهَا وَيُعَوِّذُهَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے کاٹ لیا ۱؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتہ شریف سے اسے مارا حتی کہ اسے قتل کردیا پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا اللہ بچھو پر لعنت کرے نمازی غیر نمازی نبی غیرنبی کسی کو نہیں چھوڑتا ۲؎ پھر نمک اور پانی منگایا پھر اسے برتن میں ڈالا پھر اسے اپنی انگلی پر ڈالنے لگے جہاں بچھو نے کاٹا تھا اسے پونچھنے لگے اور اس پر فلق و ناس سے دم کرنے لگے ۳؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ آپ کی بائیں ہاتھ کی انگلی شریف میں کاٹ لیا جسم نبی پر زہر،ڈنگ تلوار اثر کرسکتی ہے یہ واردات بشریت پر وارد ہوتی ہے ۔
۲؎ بعض روایات میں ہے کہ اسے مار کر فرمایا کہ بچھو موذی ہے اسے حل و حرم ہر جگہ مار دو۔موذی وہ جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کردے لہذا کھٹمل جوں موذی نہیں کہ انسان کو کاٹتی ہے مگر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے۔
۳؎ یہ ہے دوا اور دعا کا اجتماع نمک و پانی بھڑ(تنبوڑی)اور بچھو وغیرہ کے کاٹے کے لیے بہت مفید ہے۔ یمسحھا سے معلوم ہوا کہ دم کرتے وقت بیماری کی جگہ پر ہاتھ پھیرنا سنت ہے،بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مریض پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم فرماتے تھے۔
|
4568 -[55] وَعَن عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَأَخْرَجَتْ مِنْ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُمْسِكُهُ فِي جُلْجُلٍ مِنْ فِضَّةٍ فَخَضْخَضَتْهُ لَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ قَالَ: فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْت شَعرَات حَمْرَاء. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عبداللہ ابن موہب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے گھر والوں نے ام سلمہ کے پاس پانی کا پیالہ دے کر بھیجا اور جب کسی آدمی کو نظر یا کوئی شے لگ جاتی تو ان کے پاس لگن بھیجتے تھے ۲؎ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال نکالتیں انہوں نے حضور کا بال چاندی کی کپی میں رکھا ہوا تھا آپ اس کے لیے وہ بال ہلا دیتیں۳؎ اس سے انہوں نے پیا فرماتے ہیں میں نے کپی میں جھانکا تو چند سرخ بال دیکھے۴؎(بخاری) |
۱؎ یہ عثمان تابعی ہیں،تیمی ہیں،حضرت طلحہ ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں،بڑے ثقہ اور عالم ہیں۔
۲؎ یعنی اہلِ مدینہ کو جب کوئی بیماری یا نظر بد یا کوئی اور تکلیف ہوتی تو وہ کسی ایسے برتن میں جس میں کپڑے دھوئے جاتے تھے پانی بھیج دیتے اور حضرت ام المؤمنین ام سلمہ وہ عمل فرماتیں ہیں جس کا ذکر ابھی ہورہا ہے۔
۳؎ جلجل لغت میں اس گھنگرو کو کہتے ہیں جو جانوروں کے گلوں میں ڈالے جاتے ہیں یہاں مراد کپی ہے کہ وہ بھی اسی شکل کی ہوتی ہے۔غالباً آپ وہ بال شریف مع اس کپی کے پانی میں گھول دیتی تھیں لوگ وہ پانی پیتے اور شفا پاتے۔
۴؎ بال کی یہ سرخی خضاب کی نہ تھی بلکہ وہ بال خوشبوؤں میں رکھے گئے تھے یہ رنگ اسی خوشبو کا تھا اس حدیث سے چند فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرام حضور کے بال شریف برکت کے لیے اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔دوسرے یہ کہ اس بال شریف کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے کہ اس کے لیے خاص کپی(ڈبی)یا پونگی بناتے اس میں خوشبو بساتے تھے کیونکہ یہ رنگت خوشبو کی تھی نہ کہ خضاب کی۔ تیسرے یہ کہ صحابہ کرام حضور کے بال شریف کو دافع بلا باعث شفا سمجھے تھے کہ انہیں پانی میں غسل دے کر شفاء کے لیے پیتے تھے کیوں نہ ہو کہ جب یوسف علیہ السلام کی قمیض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع