30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ تہبند کے داخلی حصہ میں تین احتمال ہیں: یا تو خود تہبند کا پلو مراد ہے جو جسم سے متصل ہو یا نظر والے کی ران و سرین مراد ہیں یا اعضاء تناسل اسی طرح کہ اس سے استنجاء بھی کرایا گیا اور پھر یہ پانی منظور پر چھڑکا گیا۔
۸؎ یہ نظر اتارنے کا ایک ٹوٹکہ ہے۔معلوم ہوا کہ نظر کے لیے جائز ٹوٹکے کرنا درست ہے۔یہاں مرقات نے نظر اتارنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر والے کو اعضاء بدن دھوکر دینا واجب ہے جب کہ اس سے یہ مطالبہ ہو کیونکہ یہ دفع نقصان کا ذریعہ ہے جب کہ کچا لہسن،کچی پیاز کھا کر مسجد میں آنا منع ہے تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی ضروری ہے۔قاضی عیاض نے فرمایا کہ بعض لوگوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کو حاکم مجمعوں میں جانے سے روک سکتا ہے۔حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک کوڑھی کو مجمعوں میں جانے سے روکا تھا پھر خلفاء نے یہ عمل جاری فرمایا۔(مرقات)
۹؎ یعنی نظر والے کو وضو کا حکم دیا پھر وضو کا غسالہ منظور پر چھینٹا مار دیا۔خیال رہے کہ جب دواؤں کی تاثیر میں ہماری عقل کام نہیں کرتی تو ان ٹوٹکوں میں کام نہ کرے گی لہذا ان اعمال پر اعتراض کرنا بے جا ہے۔
|
4563 -[50] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نزلت أَخذ بهما وَترك سِوَاهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جنات اور انسانوں کی نظر سے پناہ مانگتے تھے حتی کہ سورۂ فلق و ناس نازل ہوئی ۱؎ پھر جب یہ نازل ہوئیں تو ان کو لے لیا ان کے ماسوا کو چھوڑدیا ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی غریب بھی۔ |
۱؎ یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس نازل ہونے سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم جن وانس کی نظر سے بچنے کے لیے مختلف دعائیں پڑھتے تھے مثلًا اعوذ باللّٰہ من الجان وغیرہ یا اعوذ بالله من عین الانسان الحاسد۔
۲؎ یعنی دیگر دعاؤں کی کثرت چھوڑ دی زیادہ تر سورۂ فلق و ناس ہی سے عمل فرمایا،یہ مطلب نہیں کہ بالکل چھوڑدیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
4564 -[51] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«هَلْ رُئِيَ فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟»قُلْتُ:وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد 4565 -[52]وذُكر حديثُ ابْن عباسٍ: «خيرَ مَا تداويتم» فِي «بَاب التَّرَجُّل» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم میں مغرب کے لوگ دیکھے گئے ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا مغرب کیا چیز ہے فرمایا وہ جن میں جنات شریک ہو جاویں ۲؎ (ابوداؤد)اور حضرت ابن عباس کی حدیث خیر ما تداویتم کنگھی کرنے کے باب میں ذکر کر دی گئی ۳؎ |
۱؎ مغرب بنا ہے تغریب سے بمعنی دورکردینا اسی لیے جلا وطن کرنے کو تغریب کہتے ہیں یہاں مراد ہے رحمت الٰہی سے دور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع