دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

پیدا فرمادے وہ قادر مطلق ہے،اگر حائضہ عورت دودھ کے برتن میں ہاتھ ڈال دے تو دودھ خراب ہوجاتا ہے وہ ہی عورت پاک ہوکر ہاتھ ڈالے تو نہیں بگڑتا پھرجیسے بری نظر پر اثر پیدا کرتی ہے یوں ہی صالحین مقبولین کی رحمت کی نظر منظور میں انقلاب پیدا کردیتی ہے،نظر بد بیماریاں پیدا کرتی ہے تو نظر خوب بیماریاں دورکرتی ہے،شیطان نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا انظرنی مجھے مہلت دے اگر کہتا انظرانی مجھے نظر رحمت سے دیکھ لے تو اس کا بیڑا پار ہوجاتا۔(مرقات)ایک شخص نے کہا کہ میں نے بڑے بڑوں کو دیکھا کسی میں کچھ نہیں ہے،دوسرے نے کہا کہ مگر کسی نے تجھے نہ دیکھا اگر کوئی نظر والا تجھے دیکھ لیتا تو تیرا یہ حال نہ ہوتا غرضکہ نظر بڑی چیزہے کوئی نظر خانہ خراب کردیتی ہے کوئی نظر خراب کو آباد کردیتی ہے۔شعر

نظر کی جولانیاں نہ پوچھو نظر حقیقت میں  وہ نظر ہے

اٹھے  تو  بجلی  پناہ   مانگے گرے    تو   خانہ   خراب کردے

4561 -[48]

وَعَن الشَّفاءِ بنت عبد الله قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ: «أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے شفاء بنت عبدالله سے ۱؎ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ میں حفصہ کے پاس تھی تو فرمایا کہ تم انہیں نملہ کا دم کیوں نہیں سکھاتیں۲؎ جیسے تم نے انہیں لکھنا سکھایا ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ آپ کا نام لیلی ہے،شفاءلقب قرشیہ عدویہ ہیں،مہاجرین اولین میں سے ہیں،بڑی عاملہ عاقلہ بی بی تھیں،اکثر حضور صلی الله علیہ وسلم آپ کے ہاں دوپہر کا آرام فرماتے تھے حتی کہ آپ نے حضورکے لیے ایک بستر علیٰحدہ رکھا تھا۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ نملہ باریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اس کا نام موتی جھرہ ہے مگر یہ درست نہیں کہ موتی جھرہ تمام جسم پر ہوتا ہے حضرت شفاء مکہ معظمہ میں اس مرض کا بہترین دم کرتی تھیں آپ وہاں اس دم کی وجہ سے مشہور تھیں اس دم کے الفاظ مرقات نے یہاں بیان کیے آخری عبارت اس کی یہ ہے"العروس تنتعل وتخضب تکتحل وکل شیئ تفتعل غیر انہا لاتعص الرجل"یعنی دلہن جوتے پہنے،خضاب لگائے،سرمہ لگائے،سب کچھ کرے خاوند کی نافرمانی نہ کرے۔بی بی حفصہ نے حضور کا ایک راز ظاہر فرمادیا تھا اس لیے فرمایا کہ انہیں نملہ کا دم سکھاؤ جس میں خاوند کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔

۳؎ یعنی تم نے جناب حفصہ تو لکھنا تو سکھادیا جو عورتوں کے لیے بہتر نہیں اور نملہ کا دم نہ سکھایا جو فائدہ مند ہے لہذا اس حدیث سے عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینے کی اجازت نہیں عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینا مکروہ ہے خصوصًا اس زمانہ میں جب کہ عورتوں کی آزادی حد سے بڑھ چکی ہے،اس کی ممانعت صریحی حدیث میں وارد ہے لاتعلموھن بالکتابۃ عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ،بعض شارحین نے فرمایا کہ عوام عورتوں کو یہ تعلیم ممنوع ہے ازواج مطہرات کے لیے جائز تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات اشعہ)

4562 -[49]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَقَالَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا؟» فَقَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتُغُلِّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهُ» . فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ لَهُ بَأْس. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: «إِن الْعين حق تَوَضَّأ لَهُ»

روایت ہے ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ عامر ابن ربیعہ نے سہل ابن حنیف کو دیکھا ۲؎ جو نہا رہے تھے تو بولے الله کی قسم میں نے آج کا سا دن دیکھا نہ ایسی محفوظ کھالی۳؎ فرماتے ہیں کہ فورًا سہل گر گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی گئی تو عرض کیا گیا یارسول الله کیا حضور کو سہل ابن حنیف کے علاج میں رغبت ہے خدا کی قسم وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے۴؎ تو فرمایا کیا تم انکے متعلق کسی پر شبہ کرتے ہو بولے ہم عامر ابن ربیعہ پر شبہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عامر کو بلایا ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے تم نے دعاء برکت کیوں نہ کی ۵؎ اچھا اب ان کے لیے دھوؤ ۶؎ چنانچہ عامر نے ان کے لیے اپنا منہ اور ہاتھ کہنیاں اور گھٹنے اور اپنے پاؤں کے کنارے اور تہند کا داخلی حصہ ۷؎ ایک پیالہ میں دھویا پھر اس پر ڈالا گیا چنانچہ وہ لوگوں کے ساتھ چل دیا اسے کوئی تکلیف نہ تھی ۸؎ (شرح) اسے مالک نے بھی روایت کیا اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا نظر حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو انہوں نے وضو کیا ۹؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن