30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ شعر سے مراد زمانہ جاہلیت کے اشعار ہیں جن کے مضامین فحش و بے حیائی کے ہوتے تھے۔اپنی طرف سے فرمانے کی قید اس لیے لگائی گئی کہ کسی اور کے بنائے ہوئے اشعار پڑھنا یا سیکھنا برا نہیں اگرچہ اشعار برے ہوں کیونکہ ان سے علوم میں بڑی مدد ملتی ہے آج دیوان متنبی دیوان حماسہ وغیرہ درس میں داخل ہیں اگرچہ ان کے مضامین گندے ہیں غرضکہ ان تینوں فرمانوں میں تفصیل ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے عمدًا شعرکبھی نہ کہا ہاں کبھی بغیر قصد شعر آپ سے صادر ہوئے جیسے انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ہاں لبید وغیرہ کے اشعار سنے ہیں ان کی تعریف بھی فرمائی ہے حضور نے شعر گا کر ترنم سے کبھی نہ پڑھا اسکی بحث ہماری تفسیر "وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"کی تفسیر میں ملاحظہ کرو۔
|
4555 -[42] وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو داغ لگائے یا جھاڑ پھونک کرے وہ توکل سے دور ہوگیا ۱؎ (احمد، ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اگرچہ داغ لگانا دم کرنا جائز ہے مگر متوکلین کی شان سے بعید ہے۔خیال رہے کہ زمانہ جاہلیت میں داغ اور دم کو دفع مرض کے لیے مستقل علت مانا جاتاتھا اس لیے حضور انور نے اس کو توکل کے خلاف قرار دیا۔ دواؤں کے متعلق یہ عقیدہ کسی کا نہ تھا اس لیے دوا خلاف توکل نہیں اسی لیے حضور انور نے متوکلین کی صفت میں داغ نہ کرنا،رقیہ نہ کرنا بیان فرمایا دوا نہ کرنے کا ذکر نہ کیا۔
|
4556 -[43] وَعَنْ عِيسَى بْنِ حَمْزَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عبدِ الله بن عُكيم وَبِهِ حُمْرَةٌ فَقُلْتُ: أَلَا تُعَلِّقُ تَمِيمَةً؟ فَقَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِليهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے عیسیٰ ابن حمزہ سے فرماتے ہیں کہ میں عبدالله ابن عکیم کے پاس گیا ۱؎ انہیں سرخی تھی ۲؎ تو میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھتے تو فرمایا کہ ہم اس سے الله کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کوئی چیز لٹکائے(باندھے) تو اس کی طرف سونپ دیا جاتا ہے ۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ عیسیٰ ابن حمزہ تابعی ہیں،عبدالله ابن عکیم کی صحابیت میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ وہ بھی تابعی ہیں انہوں نے حضور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی ان سے کوئی روایت منقول نہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ان کا نام عیسیٰ ابن عبدالرحمن ابن یعلیٰ ہے یا عیسیٰ ابن یونس ابن اسحاق عیسیٰ بڑے متقی تھے،ایک سال حج کرتے تھے اور ایک سال جہاد،۱۸۷ھ ایک سوستاسی میں وفات پائی۔(مرقات)
۲؎ حمرہ وہ بیماری ہے جس میں چہرہ اور جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں اسے پنجابی میں قین کہتے ہیں اس بیماری میں بہت قسم کے دم کیے جاتے ہیں۔
۳؎ یعنی اگرچہ یہ کام جائز تو ہیں مگر عمل کے خلاف ہیں اس لیے ان سے بچنا بہتر ہے یہ ایسا ہی ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی حکومت کا طلبگار ہوکر اسے حاصل کرے تو وہ حکومت اس کے سپرد کردی جاوے گی اورجو مجبورًا حاکم بنادیا جاوے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع