30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ خبیث سے مراد حرام یا نجس ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد بدمزہ بدبودار دوائیں ہیں۔ (مرقات)یعنی مریض کو نہایت بد مزہ بدبودار دوائیں نہ کھلاؤ کہ اس سے زیادہ بیمار ہونے کا اندیشہ ہے خصوصًا نازک طبع لوگوں کے لیے۔
|
4540 -[27] وَعَنْ سَلْمَى خَادِمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: «احْتَجِمْ» وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ: «اخْتَضِبْهُمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خادمہ سلمٰی رضی الله عنہا سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ کوئی شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سر کے دردکی شکایت نہ کرتا مگر آپ فرماتے کہ پچھنے لگاؤ اور نہ کوئی پاؤں کے درد کی شکایت کرتا مگر آپ فرماتی ان میں خضاب کرو ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ صفیہ بنت عبدالمطلب یعنی حضور کی پھوپھی کی لونڈی ہیں حضور کے غلام ابورافع کی بیوی صاحبہ ہیں حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد اور حضرت ابراہیم ابن رسول الله کی دایہ ہیں جلیل القدر صحابیہ ہیں رضی الله عنہا۔
۲؎ ان حضرات کے سر کے درد زیادتی خون سے اورپاؤں کا درد گرمی سے ہوتا ہوگا۔معلوم ہوا کہ مرد کو پاؤں کے تلووں میں مہندی لگانا درست ہے جب کہ دفع گرمی کے لیے ہو۔یہاں خضاب سے مراد مہندی سے خضاب ہے۔
|
4541 -[28] وعنها قَالَت: مَا كَانَ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْحَةٌ وَلَا نَكْبَةٌ إِلَّا أَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاء. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نہ ہوتا زخم نہ خراش ۱؎ مگر مجھے حکم دیتے کہ میں اس پر مہندی رکھ دو ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ قرح سے مرد چھری چاقو وغیرہ کا زخم ہے اور نکبہ سے مراد پھانسی کانٹے،پتھر وغیرہ کا زخم ہے۔ (مرقات)
۲؎ تاکہ مہندی کی ٹھنڈک سے زخم کی گرمی ہلکی پڑ جاوے اور درد میں خفت ہو۔
|
4542 -[29] وَعَن أبي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يحتجم على هامته وَبَين كفيه وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پچھنے لگواتے تھے اپنی کھوپڑی پر اور اپنے دونوں کندھوں کے درمیان۲؎ اور آپ فرماتے تھے کہ جوکوئی ان خونوں میں سے بہاوے۳؎ تو اسے مضر نہیں کہ وہ کسی بیماری کے لیے کوئی دوا نہ کرے۴؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ آپ کا نام عمرو ابن سعید ہے،کنیت ابو کبشہ،قبیلہ انمار سے ہیں،شام میں قیام رہا،آپ سے روایات بہت کم ہیں۔
۲؎ یا تو ایک دم ان دونوں جگہ فصد لیتے تھے یا کبھی سر میں کبھی کندھے پر دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۳؎ خون سے مراد خون فاسد ہے جسے اس فن کے لوگ پہچانتے ہیں یا زیادہ خون جس کی جسم میں موجودگی بیماریوں کا سبب ہے۔(اشعہ)اور اسی خون سے مراد یا تو ان مقامات کا خون ہے یا مطلقًا خون خواہ کسی عضو کا فاسد یا زائد خون ہو۔
۴؎ بیماریوں سے مراد وہ بیماریاں ہیں جن کا تعلق اس خون سے ہے لہذا بشیئ فرمانا بالکل درست ہے۔
|
4543 -[30] وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى وَرِكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی ران پر پچھنے لگوائے اس موچ سے جو آپ کو ہوگئی تھی ۱؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع