30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4534 -[21] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سعد ابن زرارہ کو لالی کی بیماری سے داغ دیا ۱؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ شوکہ ایک خاص بیماری کا نام ہے جس میں اولًا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے پھر تمام بدن پر سرخی چھا جاتی ہے حضور انور نے اس کا علاج داغ سے کیا ہے۔
|
4535 -[22] وَعَن زيد بن أَرقم قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ البحريِّ وَالزَّيْت. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے ۱؎ فرماتے ہیں ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ذات الجنب کا قسط بحری اور زیتون کے تیل سے علاج کریں ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کوفہ میں رہے،وہاں ہی ۷۸ھ میں وفات پائی،پچاسی۸۵ سال عمر ہوئی، آپ کی کنیت ابو عمرو ہے۔
۲؎ اس طرح کہ زیتون کے تیل میں قسط بحری ملا کر درد کی جگہ لیپ کریں اور بیمار کو زیتون کا تیل کھلائیں اسی تیل کی مالش بھی کریں۔ حدیث شریف میں ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ اسے لگاؤ کہ یہ مبارک درخت سے ہے اور اس میں ستر بیماریوں کی شفاء ہے جن میں جذام بھی ہے،اس میں بواسیرکو بھی شفا ہے۔(دیکھو مرقات،ترمذی وغیرہما)
|
4536 -[23] وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ذات الجنب کے لیے تیل اور ورس بیا ن فرماتے تھے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ ورس یمن میں پیدا ہونے والی ایک گھاس ہے چوبیس سال تک رہ سکتی ہے رنگ سرخ دیتی ہے،ذات الجنب یعنی پسلیوں کے درد میں اس کا لیپ مفید ہے۔
|
4537 -[24] وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بمَ تستَمشِينَ؟» قَالَت: بالشُّبْرمِ قَالَ: «حارٌّ حارٌّ» . قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب |
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کس چیز سے جلاب لیتی ہو ۲؎ وہ بولیں شبرم سے۳؎ فرمایا گرم ہے گرم ہے فرماتی ہیں پھر میں نے سناء سے جلاب لیا۴؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز ہوتی جس میں موت سے شفاء ہو تو سناء میں ہوتی،ترمذی ابن ماجہ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع