30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ آدھا سیسی جائے،اس دعا میں کوئی لفظ شرک و کفر یا ناجائز نہیں۔بچہ پیدا ہونے میں اگر دشواری ہو تو یہ کوری ٹھیکری پر لکھ کر زچہ کے سر پر رکھی جاوے سر پر چینی کمر میں گھڑا نکل پڑی یا نکل پڑا۔
|
4530 -[17] وَعَن عوفِ بن مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لم يكن فِيهِ شرك» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم دور جاہلیت میں دم کرتے تھے تو ہم نے عرض کیا یا رسول الله اس بارے میں آپ کی کیا رائے عالی ہے تو فرمایا ہم پر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرک نہ ہو ۲؎ (مسلم) |
۱؎ آپ اولًا غزوہ خیبر میں شریک ہوئے،قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا فتح مکہ کے دن،آخر میں شام میں رہے، ۷۳ھ تہتر میں وفات پائی۔
۲؎ اس حدیث کی بناء پر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ عمل کی تاثیر کے لیے شیخ کو عمل سنالینا اس سے اجازت لے لینا مفید ہے اگرچہ ا س کے معنی جانتا ہو۔
|
4531 -[18] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرِ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فاغسِلوا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ نظر حق ہے ۱؎ اگر کوئی چیز تقدیر سے بڑھ سکتی ہے تو اس پر نظر بڑھ جاتی ہے ۲؎ اور جب تم دھلوائے جاؤ تو دھو دو ۳؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی نظر بد کا اثر برحق ہے اس سے منظور کو نقصان پہنچ جاتاہے۔
۲؎ یعنی اس کا اثر اس قدر سخت ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ کرسکتی تو نظر بد کرلیتی کہ تقدیر میں آرام لکھا ہو مگر یہ تکلیف پہنچادیتی مگر چونکہ کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے یہ نظر بد بھی تقدیر نہیں پلٹ سکتی۔
۳؎ یعنی اگر کسی نظرے ہوئے کو تم پر شبہ ہو کہ تمہاری نظر اسے لگی ہے اور وہ دفع نظر کے لیے تمہارے ہاتھ پاؤں دھلواکر اپنے پر چھینٹا مارنا چاہے تو تم برا نہ مانو بلکہ فورًا اپنے یہ اعضاء دھوکر اسے دے دو نظر لگ جانا عیب نہیں نظر تو ماں کی بھی لگ جاتی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عوام میں مشہور ٹوٹکے اگر خلاف شرع نہ ہوں تو ان کا بند کرنا ضروری نہیں دیکھو،نظر والے کے ہاتھ پاؤں دھوکر منظور کو چھینٹا مارنا عرب میں مروج تھا حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کو باقی رکھا، ہمارے ہاں تھوڑی سی آٹے کی بھوسی تین سرخ مرچیں منظور پر سات بار گھما کر سرسے پاؤں تک پھر آگ میں ڈال دیتے ہیں اگر نظر ہوتی ہے تو بھس نہیں اٹھتی اور رب تعالٰی شفاء دیتا ہے جیسے دواؤں میں نقل کی ضرورت نہیں تجربہ کافی ہے ایسے ہی دعاؤں اور ایسے ٹوٹکوں میں نقل ضروری نہیں خلاف شرع نہ ہوں تو درست ہیں اگرچہ ماثورہ دعائیں افضل ہیں۔ حضرت عثمان غنی نے ایک خوبصورت تندرست بچہ دیکھا تو فرمایا اس کی ٹھوڑی میں سیاہی لگا دو تاکہ نظر نہ لگے،حضرت ہشام ابن عروہ جب کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو فرماتے ما شاءالله لا قوۃ الا باالله۔علماء فرماتے ہیں کہ بعض نظروں میں زہریلا پن ہوتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع