30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اجازت ہے لہذا یہ حدیث یا تو دم کی ممانعت کی احادیث کی شرح ہے یا ان کی ناسخ یعنی وہ دم ممنوع ہے جس میں مشرکانہ الفاظ ہوں،قرآنی آیات اور احادیث کی دعاؤں سے دم جائز ہے ان کی تاثیر برحق ہے۔معلوم ہوا کہ عورتیں بھی دم کرسکتی ہیں مگر مردوں پر دم کرنا ہو تو پردہ کا خیال ضروری ہے بچوں،عورتوں پر دم میں آزادی ہے۔العین سے مراد یا آنکھ دکھنا ہے یا نظر لگنا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں نسترقی نون سے ہے جمع متکلم۔علماء فرماتے ہیں کہ بدنظری سے بچنے کے لیے یہ آیت کریمہ اکسیر ہے "وَ اِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَـیُزْ لِقُوۡنَکَ بِاَبْصٰرِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ"۔ (مرقات)
|
4528 -[15] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وجهِها سفعة يَعْنِي صُفْرَةً فَقَالَ: «اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ» |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر زرد چھائیں تھیں یعنی زردی ۱؎ تو فرمایا کہ اس کے لیے دم کردو کہ اسے نظر ہے ۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ سفعہ کے بہت معنی ہیں: نشانی،طمانچہ،نظر بد،جلنا آگ لہو،چہرے کی سیاہی مائل بہ سرخی اس لیے یہاں یہ شرح فرمائی۔
۲؎ جن کی نظر ہے یا انسان کی،علماء فرماتے ہیں کہ جنات کی نظر انسانی نظر سے سخت تر ہوتی ہے۔(اشعہ) مرقات نے فرمایا کہ جنات کی نگاہ نیزے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔جائز دعاؤں سے دم بھی جائز ہے اس دم پر اجرت لینا بھی درست ہے۔(مرقات)
|
4529 -[16] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ وَأَنْتَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا أَرَى بِهَا بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دم پھونک سے منع فرمایا تو عمرو ابن حزم کے گھر والے آئے ۱؎ بولے یارسول الله ہمارے پاس دم ہے جسے ہم بچھو سے دم کرتے ہیں اور آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمادیا ۲؎ چنانچہ انہوں نے وہ حضور پر پیش کیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج ہم نہیں دیکھتے تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے وہ اسے نفع پہنچائے ۳؎ (مسلم) |
۱؎ عمرو ابن حزم کی کنیت ابو الضحاک ہے انصاری ہیں غزوہ خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے غزوہ خندق میں پندرہ سالہ تھےحضور انور نے انہیں بحران کا حاکم بنایاتھا، ۱۰ دس میں،آپ کی وفات ۵۳ ترپن میں مدینہ منورہ میں ہوئی، ان کے اہلِ خانہ یعنی بھائی برادر بچے حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
۲؎ یعنی ہم سب لوگ بچھو وغیرہ کے کاٹے پر دم کردیتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوتا ہے اگر اسے بند کردیں تو ایک فیض بند ہو جاوے گا حضور نے دعا سنانے کا حکم دیا۔
۳؎ غالبًا وہ عربی زبان کے الفاظ تھے اگرچہ قرآنی آیت یا دعاء ماثورہ نہ تھی مگر اس کے الفاظ شرکیہ بھی نہ تھے۔ ہم نے بعض ورد اردو زبان کے دیکھے بہت زود اثر،آدھا سیسی کے لیے یہ دعا بڑی مفید ہے۔کالی چڑی کلچڑی کالا پھل کھائے اٹھو محمد آکھ دو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع