دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

مرجائے تو گنہگار نہیں لیکن اگر کوئی بھوکا پیاسا بغیر کھائے پیئے مرجائے،مرن برت یا بھوک ہڑتال کرکے مرے تو حرام موت مرے گا کیونکہ دواء سے شفا میں یقین نہیں مگر کھانے سے دفع بھوک میں اور پانی سے دفع پیاس میں یقین یا گمان اغلب ہے دواءکرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ توکل کی قسم ہے۔

4516 -[3]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضر ت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شفاء تین چیزوں میں ہے سنگی والے کے  نشتر میں ۱؎ یا شہد کے گھونٹ میں ۲؎  یا  آگ سے  داغ میں۳؎  اور میں اپنی امت کو داغ سے منع کرتا ہوں ۔(بخاری)

۱؎ جب کسی مریض کے بھری سنگی لگاتے ہیں تو پہلے مرض کی جگہ نشتر مارتے ہیں پھر سنگی رکھ کر چوستے ہیں پھر وہاں سنگی جم جاتی ہے جب اکھیڑتے ہیں تو فاسد خون نکل جاتا ہے۔شرطہ وہ نشتر ہے ا ور محجم وہ سنگی یا محجم نشتر اور شرطہ نشتر لگانا۔

۲؎ خواہ خالی شہد کا گھونٹ یا کسی چیز میں مخلوط ہوکر،رب شہد کے متعلق فرماتاہے:"فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ

۳؎ یعنی کیّ کرنا،لوہا گرم کرکے داغ دینا ان علاجوں کی وجہ اور پچھنے کے مقدم فرمانے کی حکمتیں یہاں مرقات میں دیکھو۔

4517 -[4]

وَعَن جابرٍ قَالَ: رُمِيَ أَبِي يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ احزاب کے دن ابی کو ان کی رگ حیات پر تیرا مارا گیا ۱؎ تو اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے داغ دیا ۲؎ (مسلم)

۱؎ احادیث شریفہ میں داغ سے ممانعت بھی آئی ہے اور داغ لگانا بھی وارد ہے اس لیے محدثین نے ان کی مطابقت کی بہت وجہیں بیان فرمائیں: ایک یہ کہ داغ بیان جوازکے لیے ہے اور ممانعت بیان کراہت کے لیے یعنی داغ سے علاج کرنا جائز ہے مگر بہتر نہیں۔دوسرے یہ کہ جب دوسرے علاج ہوسکتے ہوں تو داغ نہ لگاؤ اگر اس کے سواء اورکوئی علاج نہ ہو تو لگاؤ۔تیسرے یہ کہ اہلِ عرب داغ کو آخری یقینی علاج سمجھتے تھے ان کی نظر رب تعالٰی سے ہٹ کر داغ پر اڑگئی،توکل علی الله جاتا رہا تھا تعلیم توکل کے لیے ممانعت فرمائی گئی،اگر الله پرتوکل ہو داغ کو محض دواء سمجھے تو جائز ہے۔چوتھے یہ کہ جہاں داغ لگانا خطرناک ہو وہاں ممنوع ہے غیر خطرہ کی صورت میں جائز۔کیّ کے معنی ہیں داغ،عرب میں لوہا گرم کرکے زخم پر لگادیتے ہیں اسے کیّ کہا جاتا ہے۔

۲؎ حضرت ابی ابن کعب خزرجی انصاری ہیں،بڑے قاری تھے،آپ ان چھ صحابہ سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا،حضور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی،        ۱۹ھ؁ میں مدینہ منورہ میں وصال ہوا۔احزاب غزوہ خندق کا نام ہے۔اکحل رگ حیوۃ کو کہتے ہیں یہ کلائی کے درمیان ہوتی ہے جیسے ران کی رگ کو نساء، پیٹھ کی رگ کو ابہر کہا جاتا ہے،اگر اکحل کٹ جاوے تو خون بند نہیں ہوتا اور موت ہوجاتی ہے اگر اس کو داغ دیا جاوے تو خون بند ہوجاتا ہے۔

4518 -[5]

وَعَنْهُ قَالَ: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أكحله فحمسه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثمَّ ورمت فحمسه الثَّانِيَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ سعد ابن معاذ کی رگ حیات میں تیر مارا گیا ۱؎ تو اسے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے تیر سے داغ دیا پھر وہ سوج گیا تو اسے دوبارہ داغ دیا۲؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن