30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہاں حلال بمعنی کھل جانا اور استحلال بمعنی کھول لینا ہے یعنی کھانے کے اول بسم الله پڑھ لینے سے شیطان کے لیے رکاوٹ ہوجاتی ہے اور اگر بسم الله نہ پڑھی جاوے تو وہ کھانا پینا شیطان کے لیے کھل جاتا ہے۔شیطان سے مراد قرین ہے جو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے یعنی بسم الله نہ پڑھنے والے کے ساتھ کھانا کھانے پر یہ شیطان قادر ہوجاتا ہے۔
|
4161 -[3] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں گھسے تو داخلہ کے وقت اوراپنے کھانے کے وقت الله کا ذکر کرے تو شیطان کہتا ہے کہ نہ تمہارے لیے شب باشی ہے نہ کھانا ۱؎ اورجب داخل ہو تو الله کا ذکر اپنے داخلہ پر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے شب باشی پالی اور جب اپنے کھانے پر الله کا ذکر نہ کرے تو کہتا ہے تم نے شب باشی اورکھانا پالیا ۳؎(مسلم) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص گھر میں داخل ہوتے وقت پوری بسم الله پڑھ کر داہنا قدم پہلے دروازہ میں داخل کرے پھر گھر والوں کو سلام کرتا ہوا گھر میں آئے،اگر کوئی نہ ہو تو السلام علیك ایہاالنبی و رحمۃ الله و برکاتہ کہہ دے۔بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ اول دن میں جب پہلی بار گھر میں ہوتے ہیں تو بسم الله اور قل ھو الله پڑھ لیتے ہیں کہ ا س سے گھر میں اتفاق بھی رہتا ہے اور رزق میں برکت بھی۔
۲؎ شیطان کا یہ خطاب اپنی ذریت سے ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ اس خطاب میں قرین بھی داخل ہو کہ وہ بھی اس بسم الله کی برکت سے نہ کھائے اور ہمارے گھر میں رہنے سہنے سے محروم ہوجائے اور اس کے شر سے محفوظ ہو جائے اور الله کے ذکر سے غافل اس نعمت سے محروم رہے۔دوپہر کے کھانے کو غذاء کہتے ہیں اور بعد دوپہر سے رات تک کے کھانے کو عشاء کہا جاتا ہے،یہاں مراد مطلقًا کھانا ہے جو شخص صبح کو یہ عمل کرے تو ناشتہ اور دوپہر کے کھانے سے شیطان محروم ہوگا جو بعد دوپہر یہ عمل کرے تو رات کے کھانے سے وہ محروم رہے گا۔
|
4162 -[4] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی کھائے تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے پیئے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ دودھ یا پانی یا کوئی اور چیز ہمیشہ داہنے ہاتھ سے برتن تھامے۔جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور داہنے ہاتھ سے کھانا پینا مستحب سنت،بعض اماموں کے ہاں امرو جوب کے لیے ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھا تو فرمایا داہنے ہاتھ سے کھا وہ بولا کہ میں اس ہاتھ سے کھا نہیں سکتا،فرمایا اب نہ کھاسکے گا چنانچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہ اٹھ سکا رواہ مسلم عن سلمہ ابن اکوع۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع