30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ پرستش کے لیے بت بنانا یا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ کے لیے تصویریں بنانا کفر ہے،اگر یہ دونوں خیال نہ ہوں تو جاندار کی تصویریں بنانا حرام ہے کفر نہیں۔پرستش کے چاند سورج کے فوٹو،پیپل کے درخت کا مجسمہ بنانا بھی حرام ہے کہ یہ بت سازی ہے۔خیال رہے کہ غیر جاندار چیزوں میں بندے کے کسب کو دخل ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ باغ میرا لگایا ہوا ہے،یہ کھیت میرا اگایا ہوا ہے مگر جاندار چیز میں کسی کے کسب کو دخل نہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چڑیا میری بنائی ہوئی ہے اس لیے جاندار کی تصویر سازی جرم ہے غیر جاندار کی نہیں۔(مرقات)
|
4497 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ المصوِّرون» |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ کے نزدیک سخت عذاب والے تصویر بنانے والے ہیں ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یہاں مصورین سے مراد بت ساز بت تراش ہیں جو پرستش کے لیے بت بنائیں یا وہ مصور مراد ہیں جو رب تعالیٰ کے مقابلہ کے لیے تصویر سازی کریں یہ دونوں کافر ہیں اور کافر واقعی سخت عذاب مستحق ہیں اور اگر مصورین سے مراد عام فوٹو گرافر ہیں تو یہ فرمان عالی ڈرانے کے لیے ہے تاکہ لوگ اس حرکت سے باز آجاویں ورنہ ایسے لوگ فاسق ہیں اور فاسق کا عذاب کافر سے ہلکا ہے یا اس صورت میں ناس سے مراد مسلمان ہیں یعنی گنہگار مسلمانوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر سازوں کو ہوگا۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جیساکہ اوپرگزر گیا اور آگے بھی آرہا ہے۔
|
4498 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول:«كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْن عَبَّاس: فَإِن كنت لابد فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لَا رُوحَ فِيهِ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر تصویر ساز(فوٹو گرافر)آگ میں ہوگا ہر تصویر کے عوض جو وہ بنائے ایک ذات بنائی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دے گی ۱؎ ابن عباس نے فرمایا کہ اگر تم ضرور یہ ہی کرو تو درخت اور وہ چیزیں بناؤ جن میں جان نہیں ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یا تو اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر میں جان ڈال دی جاوے گی اور وہ سب مل کر اسے عذاب دیں گی یا ہر تصویر کی عوض ایک فرشتہ اس پر مسلط ہوگا جو اسے عذاب دے گا لہذا نفس سے مراد یا روح ہے یا ذات دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۲؎ اس استثناء سے معلوم ہوا کہ ہر غیر جاندار کی تصویر بنانا جائز ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ پھل دار درختوں کی تصویر بنانا مکروہ ہے مگر حق یہ ہی ہے کہ مکروہ بھی نہیں،ہاں لہوولعب کی نیت سے بنانا اس لیے مکروہ ہوگا کہ کھیل کود مکروہ ہے۔
|
4499 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ایسی خواب گھڑے جو اس نے دیکھی نہ ہو تو اسے مکلف کیا جاوے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے اور نہ کرسکے گا ۱؎ اور جو کسی قوم کی بات سنے حالانکہ وہ ناپسند کرتے ہوں یا اس سے بھاگتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالاجائے گا۲؎ اور جو تصویر بنائے تو اسے عذاب دیا جاوے گا اور مکلف کیا جاوے گا کہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ پھونکنے والا نہیں(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع