30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4490 -[2] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا واجماً وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِه مَاء فنضحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لقِيه جِبْرِيلَ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكلاب حَتَّى إِنه يَأْمر بقتل الْكَلْب الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ جناب میمونہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین سویرا کیا ۱؎ اور فرمایاکہ جبریل نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا مگر مجھے ملے نہیں واللہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۲؎ پھر آپ کے خیال میں ایک کتے کا بچہ آیا جو آپ کے تخت کے نیچے تھا ۳؎ حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر اپنے ہاتھ شریف میں پانی لیا اسے اس کی جگہ چھڑک دیا۴؎ جب شام ہوئی تو حضرت جبریل آپ کو ملے تو فرمایا کہ تم نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا وہ بولے ہاں لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے ۵؎ جہاں کتا ہو نہ وہاں جہاں تصویر ہو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اٹھ کر کتوں کے قتل کا حکم دے دیا حتی کہ حضور چھوٹے باغ کے کتے کے قتل کا حکم دیتے تھے بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے تھے ۶؎(مسلم) |
۱؎ یعنی آپ صبح کے وقت بہت غمگین اٹھے۔واجم بنا ہے وجم سے بمعنی خاموشی اور غم،غصہ۔واجم وہ جو غم کی وجہ سے خاموش ہو۔
۲؎ یعنی حضرت جبریل صادق الوعد ہیں ناممکن ہے کہ وہ وعدہ خلافی کریں۔
۳؎ فسطاط ف کے پیش سے خیمہ کو کہتے ہیں یہاں مراد تخت ہے۔(مرقات)کیونکہ خیمہ سفر میں ہوتا ہے نہ کہ گھر میں۔
۴؎ کتے کی جگہ پر پانی چھڑکنا تقویٰ احتیاط کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ کتے کا جسم ناپاک نہیں اس کے منہ کا لعاب ناپاک ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر دل میں تکدر ہوجاوے تو اس کی وجہ معلوم کرکے بدلہ کردے اس میں غوروفکرکرنا بھی عبادت ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا"ہمارے متقی بندے وہ ہیں کہ جب انہیں شیطان چھو بھی جاوے تو وہ لوگ سوچ لیتے ہیں۔
۵؎ یعنی ہم تو حسب وعدہ حاضر ہونے کو تیارتھے مگر آپ کے گھر میں رکاوٹ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر اپنے گھر میں کتا نہ بھی پالا گیا ہو دوسری جگہ سے ہی آکر گھر میں بیٹھ جاوے تب بھی ملائکہ کی تشریف آوری سے رکاوٹ ہے اس لیے باہر کا کتا بھی نہ آنے دیا جاوے۔
۶؎ چونکہ بڑے باغوں کی حفاظت بغیر کتے کے مشکل ہے اور چھوٹے باغ کی حفاظت صرف مالک کرلیتا ہے اس لیے یہ فرق رکھا گیا،یہ ہی فرق اس زمانہ میں جانوروں کے چھوٹے بڑے ریوڑوں میں فرق رکھا گیا ہوگا کہ بڑے ریوڑوں کی حفاظت کے کتے باقی رکھے گئے ہوں گے مگر اب یہ حدیث منسوخ ہوچکی اب شکار اور گھر بار اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتے پالناجائز ہے۔
|
4491 -[3] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کوئی ایسی چیز نہ چھوڑتے جس میں تصویریں ہوں مگر اسے توڑ دیتے تھے ۱؎(بخاری) |
۱؎ تصالیب جمع ہے تصلیب کی اس کے معنی ہیں صلیب کی شکل بنانا پھر خود صلیب کو تصلیب کہنے لگے اب یہ لفظ بمعنی تصویر استعمال ہوتا ہے یہاں یہ ہی تیسرے معنی مراد ہیں۔صلیب ٹی کی شکل کی دو لکڑیاں اس طر ح T عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسی لکڑیوں کی شکل پر سولی دی گئی لہذا یہ لوگ اس کی بہت تعظیم بلکہ اس کی پرستش کرتے ہیں اکثر جگہ صلیبی نشان لگاتے ہیں اور اپنے سینہ پر اسی کے نشان رکھتے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی کسی چیز پر تصویر باقی نہ چھوڑتے تھے اسے پھاڑ دیتے یا توڑ دیتے تھے۔اس تصویر میں وہ تمام قیدیں ہیں جو شروع باب میں عرض کی گئیں یعنی جاندار کی تصویر غیرضروری اور محترم لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
4492 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أتوبُ إِلى الله وإِلى رَسُوله مَا أذنبتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ". وَقَالَ:«إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تدخله الْمَلَائِكَة» |
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں تھیں ۱؎ پھر جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہ آئے ۲؎ میں نے آپ کے چہرے میں ناپسندیدگی محسوس کی۳؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اللہ رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۴؎ میں نے کیا گناہ کیا ۵؎ تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس پردہ کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کہ یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور آپ اس سے تکیہ لگائیں ۶؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں والے لوگ قیامت کے دن عذاب دیئے جائیں گے ۷؎ ان سے کہا جاوے گا کہ جو تم نے بنایا ۸؎ انہیں زندہ کرو ۹؎ اور فرمایا کہ وہ گھر جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے ۱۰؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع