30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب التصاویر
۱؎ تصاویر جمع ہے تصویر کی بمعنی صورت بنانا،یہ جاندار کی حرام بے جان کی جائز ہے۔تصویر میں مروجہ فوٹو،قلم کی تصویریں مجسمے سب ہی داخل ہیں کہ غیرجاندار کے حلال ہیں جاندار کے حرام،حضرت سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں تصاویر حرام نہ تھیں رب تعالیٰ فرماتاہے:"یَعْمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحٰرِیۡبَ وَ تَمٰثِیۡلَ"۔
|
4489 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن أبي طَلْحَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تصاوير» |
روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں کتاہو نہ اس گھر میں جس میں تصویریں ہوں ۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ آپ کا نام سہل ابن زید ہے،انصاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،آپ کا مزار بصرہ میں ہے، فقیر نے زیارت کی ہے۔
۲؎ ملائکہ سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں،حافظین کاتبین اور عذاب کے فرشتے تو ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں۔کتے سے مراد غیرضروری کتا ہے اور تصاویر سے مراد جاندار کی تصویریں ہیں جو شوقیہ بلاضرورت ہوں اور احترام سے رکھی جاویں یہ قیدیں ضروری یاد رہیں لہذا نوٹ روپیہ پیسہ کی تصاویر جو ضروری ہیں اور فرش و بستر پر تصاویر جو پاؤں سے روندی جاویں جائزہے ان کی وجہ سے فرشتے آنے سے نہیں روکتے،بچوں کی گڑیاں ان سے کھیلنا بچوں کے لیے جائز ہے مگر اس کی تجارت ممنوع ہے مذہب امام مالک،بعض نے فرمایا کہ گڑیا سازی کی احادیث منسوخ ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ غیرمنسوخ ہیں۔(مرقات)اور بچیوں کا گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا درست ہے۔
|
4490 -[2] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا واجماً وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِه مَاء فنضحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لقِيه جِبْرِيلَ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكلاب حَتَّى إِنه يَأْمر بقتل الْكَلْب الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ جناب میمونہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین سویرا کیا ۱؎ اور فرمایاکہ جبریل نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا مگر مجھے ملے نہیں واللہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۲؎ پھر آپ کے خیال میں ایک کتے کا بچہ آیا جو آپ کے تخت کے نیچے تھا ۳؎ حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر اپنے ہاتھ شریف میں پانی لیا اسے اس کی جگہ چھڑک دیا۴؎ جب شام ہوئی تو حضرت جبریل آپ کو ملے تو فرمایا کہ تم نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا وہ بولے ہاں لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے ۵؎ جہاں کتا ہو نہ وہاں جہاں تصویر ہو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اٹھ کر کتوں کے قتل کا حکم دے دیا حتی کہ حضور چھوٹے باغ کے کتے کے قتل کا حکم دیتے تھے بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے تھے ۶؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع