30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ ظاہری پاکی کو طہارت کہتے ہیں اور باطنی پاکی کو طیب اور ظاہری باطنی دونوں پاکیوں کو نظافۃ کہا جاتا ہے یعنی اللہ تعالٰی بندے کی ظاہری باطنی پاکی پسند فرماتا ہے بندے کو چاہیے کہ ہرطرح پاک رہے جسم،نفس روح، لباس،بدن،اخلاق غرضکہ ہر چیز کو پاک رکھے صاف رکھے،اقوال،افعال،احوال عقائد سب درست رکھے اللہ تعالٰی ایسی نظافت نصیب کرے۔
۳؎ کرم و سخاوت میں فرق ہے۔کریم وہ جو غذائیں ہی سخاوت کرے،سخی وہ جو چیز میں سخاوت کرے جس انسان کے اچھے اخلاق ظاہر ہوں وہ کریم ہے۔(مرقات)
۴؎ یعنی اپنے گھر تک صاف رکھو لباس،بدن وغیرہ کی صفائی تو بہت ہی ضروری ہے گھر بھی صاف رکھو وہاں کوڑا جالا وغیرہ جمع نہ ہونے دو۔
۵؎ کیونکہ یہود اپنے گھر کے صحن صاف نہیں رکھتے،نیز یہود بہت گندے بہت بخیل بڑے خسیس بڑے ذلیل ہیں،عیسائی اگرچہ کافر ہیں مگر وہ یہود کی طرح گندے نہیں ان میں کچھ صفائی ہے اگرچہ ان کے بھی دانت میلے منہ بدبو دار اور ناخن لمبے ہوتے ہیں ہر طرح کی صفائی تو اسلام نے ہی سکھائی ہے۔
۶؎ یعنی میں نے یہ حدیث جو سعید ابن مسیب سے سنی تھی مہاجر ابن مسمارکو سنائی اور پوچھا کہ کیا آپ نے بھی یہ حدیث کسی سے سنی ہے مہاجر ابن مسمار زہری ہیں،یہ تابعی ہیں،ثقہ ہیں۔
۷؎ عامر ابن سعد ابن ابی وقاص بھی زہری قرشی ہیں،تابعی ہیں ۱۰۴ ایک سو چارہجری میں وفات پائی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور حضرت عثمان غنی سے ملاقات کی ہے۔(مرقات)
۸؎ لہذا یہ حدیث موقوف بھی ہے مرفوع بھی سعید ابن مسیب کی روایت میں موقوف ہے اور عامر ابن سعد کی روایت میں مرفوع ۔
|
4488 -[70] وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ أوَّلَ النَّاس ضيَّف الضَّيْف وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ شَارِبَهُ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ فَقَالَ: يَا رَبِّ: مَا هَذَا؟ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے انہوں نے سعید ابن مسیب کو فرماتے سنا کہ رحمن کے خلیل ابراہیم لوگوں میں پہلے وہ ہیں جنہوں نے مہمانوں کی مہمانی کی ۱؎ اور لوگوں میں پہلے آپ نے ختنہ کیا ۲؎ اور لوگوں میں پہلے آپ نے اپنی مونچھ تراشی۳؎ اور لوگوں میں پہلے آپ نے بڑھاپا دیکھا۴؎ تو عرض کیا یارب یہ کیا رب تعالٰی نے فرمایا یہ وقار ہے۵؎ اے ابراہیم،عرض کیا رب میرے وقارکو بڑھادے ۶؎ (مالک) |
۱؎ اس طرح کہ آپ سے پہلے کسی نے مہمان نوازی کا اتنا اہتمام نہ کیا جتنا آپ نے کیا آپ تو بغیر مہمان کھانا ہی نہ کھاتے تھے ۔
۲؎ آپ سے پہلے انبیاءکرام ختنہ شدہ پیدا ہوئے اور انکی امتوں نے ختنہ کیا نہیں کیونکہ اس زمانہ میں ختنہ کا شرعی حکم نہ تھا۔سب سے پہلے آپ کے دین میں ختنہ حکم شرعی بنا اور آپ کی وجہ سے ختنہ سنت ابراہیمی ہوا۔
۳؎ آپ سے پہلے کسی نبی کی یا مونچھیں بڑھی نہیں یا بڑھیں اور انہوں نے تراشیں مگر ان کے دینوں میں مونچھ کاٹنا حکم شرعی نہ تھا اب آپ کی وجہ سے یہ عمل سنت ابراہیمی ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع