30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگی توبہ کرکے مرا ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ صحابی ہے اور صحابہ تمام عادل ہیں کوئی فاسق نہیں یعنی کوئی صحابی گناہ پر قائم نہیں رہے ان کی عدالت کی گواہی قرآن کریم دے رہا ہے،دیکھو ہماری کتاب امیرمعاویہ۔
|
4482 -[64] وَعَن الوليدِ بن عقبةَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بصبيانهم فيدعو لَهُم بِالْبركَةِ وَيمْسَح رؤوسهم فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي من أجل الخَلوق. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ولید ابن عقبہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے حضور کے پاس اپنے بچے لانے لگے حضور ان کے لیے دعاء برکت فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۲؎ مجھے آپ کے پاس لایا گیا میں خلوق والا تھا تو خلوق کی وجہ سے مجھے مس نہ فرمایا۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کی کنیت ابو وہب ہے،قریشی ہیں،حضرت عثمان غنی کے ماں شریکے بھائی ہیں یعنی اردی کے شکم سے وہ بھی پیدا ہوئے، فتح مکہ کے دن اسلام لائے،بڑے شاعر تھے،حضرت عثمان غنی کی خلافت میں کوفہ کے حاکم رہے،مقام رقہ میں آپ کی وفات ہوئی۔
۲؎ سبحان الله! حضور انور نے فتح مکہ فرمانے پر اہلِ مکہ کے دل بھی جیت لیے کہ یہ لوگ آج ہی مسلمان ہوئے اور آج ہی حضور انور کے ایسے معتقد ہوگئے کہ اپنے بچوں کو حضور پر پیش کرنے لگے،حضور کا کرم کریمانہ ہے کہ ان کے بچوں پربھی حضورکرم نوازی فرمانے لگے۔
۳؎ یعنی میرے سر پر ہاتھ تو نہ پھرا مگر دعا فرمائی ہاتھ اس لیے نہ پھیرا تاکہ حضور انور کے ہاتھ میں وہ رنگت والی خوشبو نہ لگ جاوے ۔
|
4483 -[65] وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا» قَالَ: فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ مِنْ أَجْلِ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ وَأَكْرمهَا» . رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے بال جمہ ہیں ۱؎ تو کیا میں ان میں کنگھی کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ان کی خدمت کرو ۲؎ فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ بہت دفعہ ان میں ایک دن میں دوبار تیل لگاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ہاں اور انکی خدمت کرو۳؎ (مالک) |
۱؎ جمہ وہ بال ہیں جو کندہوں اور کان کے درمیان ہوں۔سر کے بالوں کی تین حدیں ہیں: وفرہ،جمہ،لمہ۔ کندھوں سے نیچے مرد کے بال نہ چاہئیں۔
۲؎ یعنی جوشخص اپنے سر پر بال رکھے تو انہیں پریشان نہ رکھے،بال بکھیرے نہ رہے،بھوت بنا ہوا نہ رہے،سر دھونا،تیل ڈالنا،کنگھی کرنا یہ کام کرتا رہے،پھر اس مانگ پٹی میں اتنا بھی مشغول نہ ہوکہ روزہ نماز ہی بھول جاوے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع