دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4480 -[62]

وَعَن عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مخضوبا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عبداللہ ابن موہب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں جناب ام سلمہ کے خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے ہمارے سامنے حضور کے بالوں میں سے ایک بال نکالا خضاب کیا ہوا ۲؎ ( بخاری)

۱؎  آپ تابعی ہیں،تیمی ہیں،ان کے والدیعنی عبداللہ ابن موہب فلسطینی ہیں،وہاں کے قاضی تھے یہ عثمان ثقہ ہیں حضرت ابوہریرہ،ابن عمر،جابر ابن سمرہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں۔

۲؎  بعض روایات میں ہے کہ سرخ رنگ کا خضاب تھا یا تو حضرت ام سلمہ نے اس بال شریف کو خوشبو میں رکھا تھا یہ رنگ اس خوشبو کا تھا یا حضور نے خوشبو ملی تھی یہ رنگ اس کا تھا یا حضور نے سرشریف میں ٹھنڈک کے لیے مہندی لگائی تھی یہ رنگت اس کی تھی لہذا یہ حدیث خضاب نہ لگانے کی احادیث کے خلاف نہیں۔حضرت ام سلمہ نے حضور کی ڈاڑھی کا بال اپنے پاس تبرکًا رکھا ہوا تھا۔(مرقات) نہ معلوم یہ وہ بال شریف تھا یا دوسرا بہرحال حضور کا بال شریف تبرک کے لیے رکھنا اس کی زیارت کرنا سنت صحابہ ہے۔

4481-[63]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ فَأَمَرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ. فَقيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مخنث لایا گیا ۱؎ جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۲؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا کیا حال ہے لوگوں نے عرض کیا کہ عورتوں کی شکل بناتا ہے تو حکم دیا اسے نقیع کیطرف نکال دیا گیا۳؎ عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کریں فرمایا مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۴؎ (ابوداؤد)

۱؎  محنث کا بیان کتاب النکاح میں گزر چکا ہے کہ پیدائشی مخنث ہونا فسق نہیں وہ تو قدرتی چیز ہے،ہاں بہ تکلف مخنث بننا،اپنی آواز،لباس،وضع قطع عورتوں کی رکھنا فسق ہے۔

۲؎   عورتوں کی سی شکل بنانے کے لیے یہ حرکات کرتا تھا جیسا آج کل ہیجڑوں میں دیکھا جاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری بڑی پرانی ہے۔

۳؎  نقیع مدینہ منورہ کے باہر ایک جنگل ہے جہاں اہلِ مدینہ کے جانور چرا کرتے تھے۔اس مخنث کو اس لیے نکال دیا تاکہ اہل مدینہ اس کی صحبت سے بچیں اور اسے عبرت ہو اور توبہ کرے اور پھر واپس آجائے،یہ مطلب نہیں کہ اسے اس حرکت سے منع نہیں فرمایا گیا یہ نکالنا عملی ممانعت ہے۔

۴؎  یعنی اس مخنث کا نمازیں پڑھنا اس کے مؤمن ہونے کی علامت ہے اور اس نے کوئی ایسا جرم کیا نہیں جس کی سزا قتل ہو جیسے زنا یا ظلمًا قتل لہذا اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔اس فرمان عالی کا یہ مطلب نہیں کہ نمازی آدمی خواہ کیسا ہی جرم کرے اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔خیال رہے کہ یہ مخنث اگر منافق تھا تب تو کوئی اعتراض نہیں اور اگر مخلص مؤمن تھا تو اس نے یقینًا توبہ کرلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن