30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ عرب کے پانچ صوبوں کے سواء باقی کو عجم کہتے ہیں۔اس فتح عجم کی ابتداء زمانہ صدیقی سے ہی ہوچکی تھی پھر خلافت فاروقی و عثمانی میں تو سبحان الله مشرق و مغرب فتح ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہوبہو درست ہوئی۔
۲؎ یعنی عورتیں سواء ضرورت کے حمام میں ہرگز نہ نہائیں،مرد بلاضرورت بھی وہاں نہاسکتے ہیں مگر تہبند سے،وجہ فرق ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی۔حضرت جبر ابن نفر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا فرمان آیا اس میں تھا کہ حمام میں مرد بغیر تہبند اور عورتیں بغیر بیماری کے نہ جائیں۔کھیل صرف تین قسم کے جائز ہیں: گھوڑا،بیوی،تیر۔حضرت ابوالدرداء حمام میں نہاتے اور اس کی بہت تعریف فرماتے تھے کہ حمام دوزخ کو یاد دلاتا ہے اور بدن کو صاف کرتا ہے یعنی وہاں کمرے کی بھڑک سے دوزخ کی بھڑک یاد آتی ہے۔(مرقات)بعض بیماریوں میں حمام میں نہانا بہت مفید ہے،نفاس والی عورت کو حمام سے بہت فائدہ ہوتا ہے اس لیے مریض اور نفاس کا ذکر فرمایا گیا یہ عورتیں بھی حتی الامکان پردہ سے وہاں نہائیں۔
|
4477 -[59] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدخلِ الحمّامَ بِغَيْر إِزارٍ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يدْخل حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسُ عَلَى مَائِدَةٍ تُدَارُ عَلَيْهَا الْخمر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو ۱؎ تو بغیر تہبند حماموں میں نہ جائے ۲؎ اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے۳؎ اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو تو ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چل رہا ہو۴؎(ترمذی،نسائی) |
۱؎ یعنی توحید سے لے کر قیامت تک تمام ایمانیات پر ایمان رکھتا ہو۔ایمانیات کے دو کناروں کا ذکر فرماکر تمام عقائد مراد لیے گئے ہیں،ایمان سے مراد کامل ایمان ہے۔
۲؎ کیونکہ وہاں حمام کے ملازمین ملنے والے اور نہانے والے نائی موجود ہوتے ہیں ان کے سامنے ننگا نہ ہو ہاں اگر تنہائی کی جگہ وہاں مل جاوے تو جائز ہے۔
۳؎ یعنی اسے وہاں نہ نہانے دے نہ تہبند سے نہ بغیر تہبند وجہ فرق معلوم ہوچکی کہ عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حمام میں غسل نہ فرمایا مکہ مکرمہ میں مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو حمام ہے جسے حمام النبی کہتے ہیں یا تو اس لیے کہ وہ حضور کی ولادت گاہ کے قریب ہے یا اس لیے کہ اس جگہ کبھی حضور انور نےغسل کیا ہوگا وہاں حمام بنادیا گیا یہ مطلب نہیں کہ اس حمام میں حضور نے غسل کیا،یہ بھی خیال رہے کہ حمام میں تلاوت قرآن ممنوع ہے۔
۴؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ جس دسترخوان پر فسق و فجور ہورہا ہو وہاں کھانا ممنو ع ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے لہذا اگر شادی میں خاص دسترخوان پر ناچ گانا ہے تو وہاں کھانا نہ کھائے اور اگر اس کے قریب یہ کام ہے خاص دسترخوان پر نہیں تو مشہور متقی نہ کھائے عام مسلمان کھاسکتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع