30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ اب ان کی والدہ حضرت اسماء بنت عمیس ان کی بالوں کی نگرانی و خدمت نہ کرسکیں گی اپنی عدت وغم میں گرفتار رہیں گی اس لیے حضور نے ان کے سر منڈوا دیئے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یتیموں کا والی تصرف کرسکتا ہے جیسے حجامت اور ختنہ وغیرہ۔(مرقات)
|
4464 -[46] وَعَن أُمِّ عطيَّةَ الأنصاريَّةِ: أنَّ امْرَأَة كَانَت تختن بِالْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْهِكِي فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ وَرَاوِيه مَجْهُول |
روایت ہے حضرت ام عطیہ انصاریہ سے ۱؎ کہ ایک عورت مدینہ میں ختنہ کرتی تھی ۲؎ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مبالغہ کرو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ نافع ہے اور خاوندکو زیادہ پسند ۳؎(ابوداؤد)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کا راوی مجہول ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے،کنیت ام عطیہ،عظیم الشان صحابیہ ہیں،قریبًا تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہیں غازیوں کی خدمت زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
۲؎ اس زمانہ میں قاعدہ یہ تھا کہ بچیوں کی پیدائش کے وقت دائی یا کوئی اور عورت بچی کے نال کے ساتھ کچھ پارۂ گوشت پیشاب کی جگہ کا بھی کاٹ دیا جاتا تھا اسے لڑکیوں کا ختنہ کہتے تھے،اس کے متعلق فرمایا کہ یہ پارۂ گوشت زیادہ نیچے سے نہ کاٹے اولًا تو حدیث صحیح نہیں اگر صحیح بھی ہو تو صرف جواز ثابت کرے گی،احناف کے ہاں لڑکی کا ختنہ مکروہ ہے۔
۳؎ جیسے بچہ کے ختنہ سے صفائی اچھی رہتی ہے ایسے ہی اس ختنہ سے صفائی زیادہ نصیب ہوتی ہے،اس سے صحبت میں زیادہ لذت ہوتی ہے،مرد کے ختنہ سے عورت کو لذت زیادہ اور عورت کے ختنہ سے مرد کو لذت زیادہ،اب اس کا دنیا میں غالبًا رواج نہیں۔
|
4465 -[47] وَعَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عائشةَ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ: لَا بَأْسَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ كَانَ حَبِيبِي يَكْرَهُ رِيحَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے کریمہ بنت ہمام سے ۱؎ کہ ایک عورت نے جناب عائشہ سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا ۲؎ آپ بولیں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں۳؎ میرے محبوب اس کی مہک ناپسند کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ آپ تابعیہ ہیں،آپ کے والد کا نام ابراہیم ابن محمد ابن ابراہیم ابن ہمام ہے۔(مرقات)
۲؎ کہ عورتوں کو اس کا خضاب ہاتھ پاؤں اور سر میں لگانا کیسا ہے مگر غالب یہ ہے کہ یہاں سر میں مہندی لگانا مراد ہے تاکہ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف نہ ہو جس میں عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے کا حکم دیا گیا ہے لہذا حدیث واضح ہے۔(مرقات)
۳؎ شاید سائلہ نے حضرت ام المؤمنین سے پوچھا ہوگا کہ آپ مہندی کیوں نہیں لگاتیں تب آپ نے یہ جواب دیا کہ اس میرے فعل کی وجہ یہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع