30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم ہو تو ترجیح قولی کو ہوتی ہے،نیز دو بکریوں کی حدیث بہت صحابہ کرام سے مروی ہے،نیز ایک بکری میں جواز کا ذکر دو۲ کی روایت میں استحباب کا۔
۳؎ یہ شک حضرت علی رضی الله عنہ کی طرف سے ہےیا کسی نیچے کے راوی کی طرف سے۔
۴؎ کیونکہ امام محمد باقر کی ولادت حضرت علی رضی الله عنہ کی شہادت کے عرصہ بعد ہوئی لہذا درمیان میں کوئی راوی رہ گیا ہے اورحدیث منقطع ہے یا بعض محدثین کی اصطلاح میں مرسل ہے۔
|
4155 -[7] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: كبشين كبشين |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنھما سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک بھیڑ عقیقہ کیا۔(ابوداؤد)نسائی کے نزدیک دو دو بھیڑیں ہیں ۱؎ |
۱؎ یعنی اس روایت میں تعارض ہے۔ہم ابھی پچھلی حدیث میں دو بکریوں کی روایت کی چند وجوہ ترجیح عرض کرچکے ہیں۔
|
4156 -[8] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ» كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسِكَ عَنْهُ فَلْيَنْسِكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا ۱؎ تو فرمایا الله عقوق کو پسند نہیں کرتا شاید حضور نے یہ نام ناپسند کیا ۲؎ اور فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو پھر وہ چاہے کہ اس کی طرف سے جانور دے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۳؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یا تویہ پوچھا کہ عقیقہ کرنا واجب ہے یا سنت یا مستحب یا یہ پوچھا کہ اسے عقیقہ کہنا کیسا ہے یعنی اسم یا مسمی کے متعلق دریافت کیا۔
۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ جن احادیث میں لفظ عقیقہ آیا ہے وہ ممانعت سے پہلے کی ہیں اور یہ حدیث ان کی ناسخ ہے،بعض نے اس کے برعکس کہا ہے کہ یہ حدیث ممانعت منسوخ ہے اور وہ احادیث ناسخ ہیں۔ فقیر کے نزدیک دوسرا قول زیادہ قوی ہے اور لفظ عقیقہ بولنا بلاکراہت جائزہے۔اس جملہ پاک کا مطلب یہ ہے کہ عقیقہ میں شبہ ہوتا ہے کہ یہ لفظ عقوق سے بنا ہو جس کے معنی ہیں والدین کی نافرمانی اور ناحق شناسی لہذا اس کا نام عقیقہ مت رکھو۔
۳؎ یعنی اس عمل کو عقیقہ نہ کہو بلکہ نسیکہ کہو کہ اسمیں فاسد معنی کا احتمال نہیں۔یہاں تصریح ہوگئی کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں چاہئیں اور لڑکی کی طرف سے ایک ،یہ ہی سنت ہے۔
|
4157 -[9] وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أذَّنَ فِي أُذُنِ الحسنِ ابنِ عليٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَيْثُ حسن صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حسن ابن علی کے کان میں نماز کی اذان کہی جب کہ انہیں جناب فاطمہ نے جنا ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع