30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4458 -[40] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَكَفَّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑھاپے کی نشانی نہ اکھیڑو کہ وہ مسلمان کا نور ہے ۱؎ جو اسلام میں بوڑھا ہو تو اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس سے اس کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کرتا ہے۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جب سر یا ڈاڑھی میں چٹے بال شروع ہوجاویں تو انہیں مت اکھیڑو ان چٹے بالوں سے نفس کمزور ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اب میں بوڑھا ہو چلا ہوں آخرت کی تیاری کروں یہ بال اکھیڑ دینے سے وہ اپنے کو جوان ہی سمجھے گا،یہ فرق ہے خضاب اور سفید بال اکھیڑنے میں اس لیے خضاب کا حکم دیا اکھیڑنے سے منع فرمایا، سفید بال خواہ سفید ہی رہیں یا سرخ کردیئے جاویں قبر یاد دلاتے ہیں کہ تیاری کرو چلنے کا وقت قریب آگیا سویرا ہوگیا اب جاگ جاؤ۔شعر
اٹھ جاگ مسافر بھور ہوئی اب رات کہاں جو سووت ہے جو جاگت ہے سو پاوت ہے جو سووت ہے وہ کھووت ہے
اٹھ نیند سےاکھیاں کھول ذرا اور رب سےاپنےدھیان لگا یہ پریت کرن کی ریت نہیں رب جاگت ہےتو سووت ہے
۲؎ امام مالک نے بروایت سعید ابن مسیب نقل فرمایا کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سفید ہوئے آپ نے پوچھا یارب یہ کیا فرمایا یہ وقار اور نور ہے،فرمایا الٰہی میرا وقار اور نور اور زیادہ کر۔وہ جو حاکم و ابن سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ رب تعالٰی نے حضور کو چٹے بال سے بگاڑا نہیں (حاشیہ بیضاوی)وہاں معنی یہ ہیں کہ حضور کے کچھ بال سفید ہوئے تو اس سے حضور کا حسن اوربھی زیادہ ہوگیا کچھ کمی نہ آئی۔علماء فرماتے ہیں کہ سفید بال اکھیڑنا زینت کے لیے ہو تو منع ہے۔(مرقات)
|
4459 -[41] وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ القيامةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت کعب ابن مرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا ۱؎ (ترمذی،نسائی) |
۱؎ یعنی سفید ریش والے مؤمن کے لیے قیامت میں نور ہوگا کہ اس کی سفید ڈاڑھی نورانی ہوگی یا نور کا باعث ہوگی اس دن سواء ابراہیم علیہ السلام کے ڈاڑھی کسی کے نہ ہوگی مگر یہ سفید ڈاڑھی چہرہ کے نور کا باعث ہوگی۔ان دونوں حدیثوں کی بناء پر حضرت علی،سلمہ ابن اکوع،ابی ابن کعب اور بہت صحابہ کرام نے کبھی خضاب نہ لگایا اپنی ڈاڑھی اور سر سفید رکھے،وہ فرماتے تھےکہ چٹی ڈاڑھی نور اور درجات کا باعث ہو گی ۔بعض صحابہ کرام اور حضرت حسن و حسین نے خضاب لگایا گزشتہ احادیث کی بنا پر لہذا دونوں عمل جائز ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اگر اپنے شہر میں خضاب کا رواج عام ہو تو خضاب کرنا بہتر ہے،اگر سفید ڈاڑھی کا رواج عام ہو تو سفید رکھنا بہتر اور جہاد کے موقع پر خضاب افضل۔(مرقات)یوں ہی اگر ہمارے شہر یا ملک میں یہودی سکھ عام ہوں جو خضاب نہیں کرتے تو خضاب کرنا افضل ہے۔
|
4460 -[42] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الوفرة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے ۱؎ اور آپ کے بال شریف جمہ سے زیادہ اور وفرہ سے کم تھے۲؎ (ترمذی،نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع