30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4454 -[36] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا».قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ فَقَالَ:«هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا» ثُمَّ مَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ:«هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگایا ہوا تھا تو فرمایا یہ کیا ہی اچھا ہے فرماتے ہیں پھر دوسرا گزرا جس نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا تھا ۱؎ تو فرمایا یہ اس سے اچھا ہے پھر دوسرا آدمی گزرا جس نے زردی سے خضاب کیا تھا تو فرمایا یہ ان سب سے اچھا ہے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ اسی طرح کہ مہندی میں تھوڑا سا وسمہ تھا جس سے خضاب کا رنگ پختہ سرخ ہوگیا تھا۔سیاہ کی حد کو نہ پہنچاتھا۔(مرقات)لہذا اس سے سیاہ خضاب کی حلت ثابت نہیں ہوئی،سیاہ خضاب کی حلت کی ایک حدیث بھی نہیں حرمت کی بہت احادیث ہیں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ زرد خضاب حضور نے بہت پسند فرمایا۔
|
4455 -[37] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تشبَّهوا باليهودِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ 4456-[38]،4457[39]وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن ابْن عمر وَالزُّبَيْر |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑھاپے کی نشانی بدلو ۱؎ اور یہود سے مشابہت نہ کرو ۲؎(ترمذی) اور نسائی نے حضرت ابن عمر اور زبیر سے روایت کی ہے۳؎ |
۱؎ یہ حکم مجاہدین کے لیے ہے کہ وہ سفید بال لے کر جہاد میں نہ جائیں یا ان کے لیے جو سفید بالوں کی حفاظت میں مسلمان ہوں،دوسرے مسلمانوں کے لیے اختیار ہے کہ بال سفید رکھیں یا سیاہ کے علاوہ کوئی اور خضاب لگائیں اس کی اور توجیہیں بھی ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۲؎ یعنی یہودی اپنے سر و ڈاڑھی کے بال چٹے جیسے سفید رکھتے ہیں تم سرخ یا پیلے کرلیا کرو تاکہ ان کی مشابہت سے بچو۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مسلمان یہود کی مخالفت کے لیے ڈاڑھیاں منڈوا نہ دیں بلکہ اونہیں سرخ کرکے اون کی مخالفت کریں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو سفید ڈاڑھی والا کافر مسلمان ہو وہ ضرور خضاب کرے تاکہ کفر و اسلام کے رنگوں میں فرق ہوجائے مگر جو پرانا مسلمان ہو اس کے لیے سفید ڈاڑھی رکھنا بھی درست ہے۔
۳؎ یہ حدیث احمد نے حضرت زبیر سے روایت کی،احمد نے حضرت انس سے یوں روایت کی بالوں کا سفید رنگ بدلو اور سیاہ خضاب سے بچو کیونکہ سیاہ خضاب کفار کا ہے۔مشہور یہ ہے کہ سب سے پہلے سیاہ خضاب لگانے والا فرعون تھا۔(مرقات)
|
4458 -[40] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَكَفَّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑھاپے کی نشانی نہ اکھیڑو کہ وہ مسلمان کا نور ہے ۱؎ جو اسلام میں بوڑھا ہو تو اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس سے اس کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کرتا ہے۲؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع