30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4452 -[34] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَجِدُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا آخری زمانہ میں ایک قوم ہوگی جو اس سیاہی سے خضاب کیا کرے گی کبوتروں کے پوٹوں کی طرح ۱؎ وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یعنی اپنے سر اور ڈاڑھی کے بال خالص سیاہ کیا کریں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے خالص سیاہ ہوتے ہیں۔ حواصل جمع ہے حوصلہ کی بمعنی معدہ یہاں سینہ مراد ہے بعض کبوتروں کے سینے سیاہ ہوتے ہیں۔
۲؎ حالانکہ جنت کی مہک پانچ سو سال کی راہ سے محسوس ہوتی ہے یعنی سیاہ خضاب کرنے والے جنت میں جانا تو کیا اس کے قریب بھی نہ پہنچیں گے یعنی اولًا بعد میں معافی ہوکر پہنچ جاویں گے تو دوسری بات ہے(مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ میدان محشر میں جنت کی خوشبو آتی ہوگی جو مسلمانوں کو محسوس ہوگی اس مہک سے مست ہو کر محشر کی شدت بھول جائیں گے مگر یہ سیاہ خصاب کرنے والے محشر میں یہ خوشبو محسوس نہ کرسکیں گے اور وہاں کی تکلیف محسوس کریں گے جیسے حوض کوثر کی ایک نہر محشر میں ہوگی جس سے مؤمن پانی پیتے رہیں گے منافق روک دیئے جائیں گے۔(اشعۃ اللمعات)اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ سیاہ خضاب حرام ہے خواہ سر میں لگائے یا ڈاڑھی میں مرد لگائے یا عورت اس سے معذوری کی حالت مستثنٰی ہے،علاج کے لیے یا غزوہ کے لیے سیاہ خضاب جائز ہے۔(مرقات)بعض لوگ مطلقًا سیاہ خضاب جائز کہتے ہیں،بعض لوگ عورتوں کے لیے جائز کہتے ہیں،بعض مردوں کے سر کے لیے جائز کہتے ہیں،ڈاڑھی کے لیے ممنوع مانتے ہیں،بعض لوگ اسے مکروہ تنزیہی کہتے ہیں یہ کل ضعیف ہیں۔صحیح وہ ہی ہے کہ سیاہ خضاب مطلقًا مکروہ تحریمی ہے۔مردوعورت،سر ڈاڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں۔(مرقات)ہاتھ پاؤں میں مہندی وغیرہ سے خضاب عورتوں کو جائز مردوں کے لیے ممنوع الا بالعذر۔(مرقات)
|
4453 -[35] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيَصْفِرُّ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِك. رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبتی جوتے پہنتے تھے ۱؎ اور اپنی ڈاڑھی شریف کو ورس ۲؎ اور زعفران سے رنگتے تھے۳؎ اور حضرت ابن عمربھی یہ کرتے تھے۴؎(نسائی) |
۱؎ جس کی کھال کے بال اڑا دیئے گئے ہوں۔سبت بمعنی حلق(منڈانا)عام عرب بال والے جوتے پہنتے تھے اب عمومًا بے بال کے جوتے بنتے ہیں۔
۲؎ ورس ایک گھاس ہے جو یمن میں پیدا ہوتی ہے پیلا رنگ دیتی ہے۔
۳؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کے لیے یہ گھاس یا زعفران ڈاڑھی شریف میں ملتے تھے جس سے ان کا رنگ سیاہ بالوں میں نمودار ہوجاتا تھا خضاب کے لیے نہیں کیونکہ حضور کی ڈاڑھی شریف سفید ہوئی نہیں پھر خضاب کیسا لہذا یہ حدیث حضرت انس کی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور نے خضاب نہ کیا،آپ کے کل بیس بال سفید تھے۔(اشعۃ اللمعات)مرقات نے کچھ اور توجیہ کی ہے مگر یہ توجیہ قوی ہے اور اس سے احادیث کا اجتماع ہوجاتا ہے۔
۴؎ معلوم ہوا کہ زرد خضاب جائز ہے صرف سیاہ منع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع