30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ ہی سنت ہے کہ سر کے بال بکھرے نہ رہیں ان میں کنگھی کی جاوے،بالوں کے دو حصے کیے جاویں اور مانگ بیچ سر میں ناک کے اوپر سے سیدھی نکالی جاوے،اب فیشن پرست مردوعورت ایک طرف سے مانگ نکالتے ہیں یعنی ٹیڑھی مانگ خلاف سنت ہے۔
۲؎ اس جملہ کے شارحین نے کئی معنی کیے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہ کلام پہلے کلام کا تتمہ ہے یا فوخ کہتے ہیں وسط سریعنی کھوپڑی کو۔مطلب یہ ہے کہ میں حضور انور کے بال شریف کے دو حصے کرتی تھی ایک حصہ داہنی جانب دوسرا حصہ بائیں جانب اور پیشانی کے اوپر سے یہ مانگ شروع کرتی تھی اور کھوپڑی شریف سے اسے گزارتی تھی پوری مانگ بیچ سر میں ہوتی تھی سیدھی جاتی تھی۔یہ ہی معنی بہت موزوں ہیں(مرقات و اشعہ)
|
4448 -[30] وَعَن عبد الله بن مغفَّل قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر گاہے گاہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یہ حکم مرد کے لیے سر کے بالوں میں کنگھی کرنے کے متعلق ہے یعنی جس مرد کے سر پر بال ہوں وہ روزانہ ان میں تیل و کنگھی نہ کرے کہ اسی میں لگا رہے بلکہ کبھی کرے کبھی نہ کرے،ایک دن کرے ایک دن نہ کرے۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ ہفتہ میں ایک دن کرے۔غب غین کے کسرہ سے ب کے شد سے، اس کے معنی ہیں اونٹ کو ایک دن پانی پلانا ایک دن ناغہ کرنا تجارت کو بھی غب کہا جاتا ہے۔اس ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ انسان ظاہری آرائش میں مشغول ہوکر رب کو نہ بھول جائے اس حکم سے عورتیں مستثنٰی ہیں وہ چاہیں تو روزانہ مانگ چوٹی کریں،یوں ہی اگر مرد ڈاڑھی میں روزانہ کنگھی کرے تو مضائقہ نہیں دیکھو مرقات۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ وضو کے بعد ڈاڑھی میں کنگھی کرنا فقیری کو دور کرتا ہے،امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روز ڈاڑھی میں دو بار کنگھی کرتے تھے۔(اشعہ)
|
4449 -[31] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإِرفاه قَالَ: مَالِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نحتفي أَحْيَانًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بریدہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے فضالہ ابن عبید سے کہا ۲؎ کہ مجھے کیا ہوا کہ میں آپ کو پرا گندہ بال دیکھتا ہوں۳؎ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو بہت عیش پسندی سے منع فرماتے تھے۴؎ بولے کہ مجھے کیا ہوا کہ تمہارے پاؤں میں جوتے نہیں دیکھتا فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں رہا کریں ۵؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ عبداللہ ابن بریدہ ابن حصیب اسلمی ہیں،تابعی ہیں،اپنے والد بریدہ سے جوکہ صحابی ہیں روایات لیتے ہیں،آپ کے بیٹے سہل آپ سے روایات لیتے ہیں،مرو کے قاضی رہے،وہاں ہی وفات پائی۔
۲؎ فضالہ ابن عبید صحابی ہیں،انصاری ہیں،اوسی ہیں،غزوہ احد وغیرہ میں شامل رہے،پھر دمشق میں قاضی رہے امیر معاویہ کے زمانہ میں،وہاں ہی وفات پائی۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع