30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں کا استعمال ممنوع ہے ان کے ساتھ نماز مکروہ ہے لہذا مرد اگر ریشمی لباس یا چاندی سونے کا زیور پہن کر نماز پڑھے تو اس کی نماز سخت مکروہ واجب الاعادہ ہوگی۔
|
4442 -[24] وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: «اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے تو انہوں نے زعفران والی خلوق میرے لگادی ۱؎ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا میں نے آپ پر سلام عرض کیا تو مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا جاؤ اسے اپنے جسم سے دھو دو ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ خلوق بغیر زعفران کی بھی ہوتی ہے اور زعفران والی اور یہ زخم کا علاج ہے جیسے آج کل ویسلین کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے اوریہ زخموں وغیرہ کا علاج بھی ہے،انکے زخم پر زعفرانی خلوق لگائی گئی تھی علاج کے لیے۔
۲؎ غالبًا اسی پھٹن کا علاج خلوق کے سواء اوربھی ہوگا جیسے موم و تیل وغیرہ یا ا س پر ناراضی ہے کہ تم اسے لگائے ہوئے باہر کیوں آئے یا اس پر کہ تم نے خلوق پر پانی بہاکر اس کا رنگ کیوں زائل نہ کردیا ورنہ مجبوری و معذوری میں معافی ہوتی ہے۔ (مرقات و اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ اعلانیہ ناجائز کا ارتکاب کر نے والے کے سلام کا جواب نہ دینا تاکہ وہ اس گناہ سے توبہ کرے درست ہے اور ممکن ہے کہ حضور نے آہستہ جواب دیا ہو جو انہوں سے سنا نہ گیا ہو،لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے پھر حضور نے جواب کیوں نہ دیا جبکہ بزرگ ہستی کے جواب سلام نہ دینے سے اس کے گناہ چھوڑ دینے کی امید ہو تب یہ جواب نہ دینا ایک قسم کی تبلیغ ہے یہ توجیہ خیال میں رہے۔
|
4443 -[25] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو رنگت چھپی رہے ۱؎ اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ ظاہر ہو مہک چھپی ہوئی ۲؎(ترمذی،نسائی) |
۱؎ جیسے گلاب،مشک،عنبر اور کافور وغیرہ مرد کے لیے یہ خوشبوئیں بہتر ہیں کہ ان میں رنگت نہیں مہک ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ عورت مہک والی چیز استعمال کرکے باہر نہ جائے اپنے خاوند کے پاس خوشبو مل سکتی ہے یہاں کوئی پابندی نہیں جیساکہ دوسری روایت میں ہے کہ جو عورت خوشبو مل کر باہر نکلے وہ ایسی ایسی ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ عورت بخور لگاکر ہماری مسجد میں عشاء کے لیے نہ آئے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عورت مہندی لگائے ہوئے باہر نہ پھرے کہ مہندی میں مہک ہے اور عورت کو مہک لگا کر نکلنا ممنوع ہے۔
|
4444 -[26] وَعَن أنس قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكَّةٌ يَتَطَيَّبُ مِنْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کپی تھی جس سے آپ خوشبو لگاتے تھے ۱؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع