30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4439 -[21] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی شریف سے طول و عرض سے کچھ لیا کرتے تھے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس طرح کہ لمبائی میں مٹھی بھر یعنی چار انگل سے زیادہ بالوں کو کاٹ دیتے تھے اور چوڑائی میں اس دائرے کے حد میں جو بال آتے باقی رکھے جاتے اس سے بڑھتے ہوئے کاٹ دیئے جاتے۔چار انگل تک ڈاڑھی رکھنا واجب ہے،ڈاڑھی منڈانا یا کتروانا فسق ہے ۔حضرت عبدا للہ ابن عمر رضی اللہ عنھما اپنے ڈاڑھی مٹھی میں پکڑتے تو جومٹھی سے باہر بال ہوتے انہیں کاٹ دیتے تھے وہ عمل اس حدیث کی شرح ہے۔یہاں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے بہت عرصہ تک ڈاڑھی نہ کٹوائی حتی کہ ڈاڑھی بہت بڑی ہوگئی تو اب اسے نہ کٹوائے بلکہ ویسی ہی رہنے دے۔(اشعہ)جن بزرگوں کی ڈاڑھیاں بہت لمبی دیکھی گئیں ہیں وہاں یہ ہی وجہ ہوئی ہوگی ۔غرضکہ چار انگل سے ہرگز کم نہ کرے مگر اس سے زیادتی اس کی دو صورتیں ہیں: کوشش کرتا رہے کہ زیادہ نہ ہونے پائے،اگر بہت زیادہ کرلی تو پھر ویسے ہی رہنے دے۔
|
4440 -[22] وَعَن يعلى بن مرّة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهِ خَلُوقًا فَقَالَ: «أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تعد» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضر ت یعلیٰ ابن مرہ سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر خلوق خوشبو دیکھی ۲؎ تو فرمایا کیا تمہارے پاس بیوی ہے۳؎ کہا نہیں فرمایا تو اسے دھو دو پھر دھو دو پھر دھو دو پھر آئندہ نہ کرو ۴؎ (ترمذی،نسائی) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،اہلِ کوفہ میں آپ کا شمار ہے،صلح حدیبیہ،غزوہ خیبر،غزوہ حنین میں شریک رہے۔
۲؎ خلوق خ اور لام کے پیش سےعرب کی مشہور خوشبو ہے جو زعفران وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے رنگت دیتی ہے۔
۳؎ یعنی اگر تمہارے بیوی ہو تو تم اس رنگت میں معذور ہو کہ اس نے رنگت والی خوشبو استعمال کی ہو اور اس کے کپڑوں سے تمہارے جسم یا کپڑوں میں خوشبو لگ گئی ہو،اس صورت میں تم معذور ہو اور اس خوشبو کے لگ جانے سے تم پر کوئی گناہ نہیں۔
۴؎ یا تو اس خوشبو کی رنگت ایسی تیز اور پختہ ہوگی جو تین بار دھوئے بغیر کپڑے سے چھوٹ نہ سکتی ہوگی اس لیے تین بار دھونے کا حکم دیا یا مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ خوب اچھی طرح دھوؤ تاکہ بامشقت انہیں یاد رہے اور پھر یہ کبھی استعمال نہ کریں۔
|
4441 -[23] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَيْءٌ مِنْ خَلُوقٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے جسم میں کچھ خلوق ہو ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ رجل فرماکر اشارۃً بتایا کہ عورت کا یہ حکم نہیں اسے خلوق استعمال کرنا جائز ہے اور شیئ فرماکر بتایا کہ خلوق تھوڑی ہو یا زیادہ بہرحال مرد کے لیے ممنوع ہے۔اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ تھوڑی خلوق جائز ہے زیادہ ممنوع۔اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع