دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

حدیث اس کے خلاف نہیں کہ مردوں کی خوشبو بغیر رنگ والی چاہیے کہ وہاں رنگ سے مراد زینت والا رنگ ہے اس کی ممانعت ہے۔

4436 -[18]

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِأَلُوَّةٍ غَيْرِ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب دھونی لیتے تو لوبان سے دھونی لیتے غیر مخلوط ۱؎  یا کافور سے لیتے جسے وہ لوبان کے ساتھ ڈالتے ۲؎  پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح دھونی لیتے تھے ۳؎(مسلم)

۱؎ استجمار وہ خوشبو لینا جو جمرہ یعنی آگ کے انگاروں پر رکھ کر حاصل کی جاوے یعنی بخور یا دھونی اسی لیے انگیٹھی کو مجمرہ کہتے ہیں یہ جمرہ سے ہے نہ جمار سے،جمار سے جو استجمار آتاہے اس کے معنی ہوتے ہیں ڈھیلے سے استنجا کرنا،اسی سے ہے جمار جن کی رمی حج میں کی جاتی ہے۔لوبان مشہور خوشبو ہے جو پہلے بہت مروج تھی اب اگربتیوں کی وجہ سے اس کا رواج کم ہوگیا۔

۲؎  یعنی کبھی تو خالص لوبان سے دھونی  لیتے  کبھی لوبان کے ساتھ کافور بھی شامل فرمالیتے تھے دونوں کی ملاکر دھونی لیتے تھے۔

۳؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی صرف لوبان سے اور کبھی لوبان و کافور کے مجموعہ سے دھونی لیا کرتے تھے میں بھی اس سنت پر عمل کرتا ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور عادت کریمہ جو کام کیے وہ سنت زائدہ کہلاتے ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

4437 -[19]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ أَوْ يَأْخُذُ مِنْ شَارِبِهِ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ يَفْعَله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھوں سے کچھ کترتے یا لیتے تھے ۱؎ اور اللہ کے خلیل جناب ابراہیم بھی یہ کام کرتے تھے ۲؎(ترمذی)

۱؎ راوی کو شک ہے کہ حضرت ابن عباس نے یاخذ کہا یا یقص معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔

۲؎ غالبًا حضرت ابراہیم پہلے وہ نبی ہیں جنہوں نے مونچھیں تراشیں آپ کے بعد تمام نبیوں نے یہ عمل کیا اور ہمارے حضور نے یہ سنت خلیل جاری فرمائی لہذایہ عمل فطرت ہے اس پر بڑا ثواب ہے۔مونچھیں ہرہفتہ یا پندرہ دن میں ضرور تراشنا چاہئیں۔

4438 -[20]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«مَنْ لَمْ يَأْخُذ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت زید ابن رقم سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنی مونچھوں میں سے کچھ نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎(احمد،ترمذی، نسائی)

۱؎ یعنی ہمارے طریقہ سے وہ خارج ہے یا بڑی مونچھیں رکھنے والے کے لیے خطرہ ہے کہ اس کا خاتمہ اسلام پر نہ ہو۔معاذ الله! (مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن