30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4432 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ» وَنَهَى عَن الوشم. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نظر حق ہے ۱؎ اور گودنے سے منع فرمایا ۲؎(بخاری) |
۱؎ یعنی نظر بد کا اثر حق ہے اس سے مال بدن پر اثر پرتا ہے باذن اللہ۔جیسے اللہ تعالٰی نے سانپ کے منہ میں، بچھو کے ڈنگ میں زہر رکھا ہے یوں ہی اس نے انسان کی نظر میں بھی اثر رکھا ہے جس سے انسان بیمار یا چیز ضائع ہوجاتی ہے،ان شاء الله اس کی تحقیق کتاب الطب و الرقی میں آوے گی۔جادو،نظر وغیرہ سب برحق ہے۔جب گالی کے لفظوں میں اثر ہے کہ اس سے دل مغموم ہو جاتا ہے تو جادو کے الفاظ میں بھی اثر ہوسکتا ہے یوں ہی دعاؤں وظیفوں دم درود میں شفاء کا اثر برحق ہے۔
۲؎ اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ گودنے سے نظر نہیں لگتی اور لگی ہوئی نظر دفع ہوجاتی ہے اس لیے حضور انور نے اس سے منع فرمایا کہ یہ خلاف عقل اور عقیدہ باطل ہے۔
|
4433 -[15] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بال چپکائے ہوئے دیکھا ۱؎ (بخاری) |
۱؎ ملبد کے معنی ہیں چپکانا۔اہل عرب کوئی خاص گوند ہلکا سا سر میں مل کر بال چپکالیتے تھے تاکہ بال پراگندہ نہ ہوں اسے ملبد کہتے ہیں،یہ بحالت احرام اور غیر احرام سب میں جائز ہے یہاں غالبًا غیر احرام کی حالت میں ملبد مراد ہے۔
|
4434 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ مرد زعفرانی رنگ استعمال کرے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اپنے کپڑے یا بدن میں زعفرانی رنگ استعمال کرنا مرد کے لیے ممنوع قرار دیا عورتوں کو یہ سب کچھ جائز ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ تھوڑا سا زعفرانی رنگ لگالینا مردکو جائز ہے زیادہ ممنوع ہے مگر حق یہ ہے کہ مطلقًا ممنوع ہے۔جن احادیث سے اس جواز کا دھوکا ہوتا ہے ان میں رنگ لگ جاتا ہے لگانا نہیں لہذا یہ حدیث اپنے اطلاق پر ہے۔
|
4435 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا نَجِدُ حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ ولحيته |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موجود بہترین خوشبو تیار کرتی تھی ۱؎ حتی کہ خوشبو کی چمک آپ کے سر اور آپ کی ڈاڑھی میں پائی جاتی تھی ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اطیب کے دو معنی ہوسکتے ہیں: خوشبو تیار کرتی تھی یا خوشبو لگاتی تھی۔حضور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو بہت ہی پسند تھی اس لیے ازواج مطہرات خصوصًا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور انور کے لیے خوشبو تیار کیا کرتی تھیں حتی کہ احرام کھولتے وقت بھی خوشبو تیار کی گئی تھی۔
۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک اور ڈاڑھی شریف میں خوشبو لگاتے تھے اور وہ خوشبو اس قدر زیادہ ہوتی تھی کہ بالوں میں اس کی چمک دیکھی جاتی تھی،یہ چمک خوشبو کا رنگ نہ تھا چمک تھی،چمک تو پانی کی بھی محسوس ہوجاتی ہے لہذا یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع