30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4429 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ والمتشبِّهات من النِّسَاء بِالرِّجَالِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ لعنت کرے ان مردوں پر جو عورتوں کے ہم شکل بنیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی ہم شکل بنیں ۱؎ (بخاری) |
۱؎ معلوم ہوا کہ یہ حرکت گناہ کبیرہ ہے،گناہ صغیرہ بھی اگر ہمیشہ کیا جاوے تو کبیرہ بن جاتا ہے۔
|
4430 -[12] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ والواشمة والمستوشمة» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ لعنت کرے بال ملانے والی اور ملوانے والی پر اور گودنے والی اور گودانے والی پر ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ان دونوں چیزوں کی شرح پہلے گزرگئی۔واصلہ وہ عورت جو اپنے سر کے بالوں میں دوسری عورت کے بال ملا کر دراز کرے۔مستوصلہ وہ عورت جودوسری کے سر میں یہ بال جوڑے یا جو اپنے سر کے بال کاٹ کر اسے دے ملانے کے لیے یہ دونوں کام حرام ہیں جن پرلعنت فرمائی گئی۔واشمہ وہ عورت جو سوئی وغیرہ کے ذریعہ اپنے اعضاء میں سرمہ یا نیل گودوالے جیسا کہ ہندو عورتیں بعض ہندو مرد کرتے ہیں۔مستوشمہ وہ جو دوسری عورت کے گودے دونوں پر لعنت فرمائی۔حرام کام فاعل و مفعول دونوں کی لعنت کا باعث ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اگر بالوں میں دھاگہ لگا کر انہیں دراز کرلیا جاوے تو جائز ہے جسے موباف کہتے ہیں۔ (مرقات)
|
4431 -[13] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وجدت فِيهِ مَا نقُول قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأت:(مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا)؟ قَالَت: بلَى قَالَ: فإِنه قد نهى عَنهُ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ لعنت کرے اللہ گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور بال اکھیڑنے والیوں پر ۱؎ اور حسن کے لیے کھڑکیاں کرانے والیوں پر۲؎ جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں۳؎ تو ایک عورت آپ کے پاس آئی بولی کہ مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم نے فلاں فلاں پرلعنت کی ہے۴؎ فرمایا میں کیوں لعنت نہ کروں اس پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور اسپر جو اللہ کی کتاب میں ہے ۵؎ وہ بولی کہ میں نے تو دو تختیوں کے درمیان میں پڑھا ہے جو تم کہتے ہو وہ میں نے اس میں نہ پائی ۶؎ فرمایا اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو تم اسے پا لیتیں۷؎ کیا تم نے نہ پڑھا کہ جو تم کو رسول دیں اسے لے لو اور جس سے تم کو رسول منع کریں اس سے باز رہو وہ بولی ہاں فرمایا کہ حضور نے اس سے منع فرمایا ہے ۸؎(مسلم، بخاری)۹؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع