30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4427 -[9] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ رَأْسِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا گیا ا ور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا تو انہیں اس سے منع فرمایا اور فرمایا کُل سر مونڈو یا کل چھوڑو ۱؎(مسلم) |
۱؎ خیال رہے کہ کل سر منڈانا جائز ہے مگر بہتر نہیں سواء احرام سے کھلنے کے وقت کہ وہاں سر منڈانا بہتر ہے باقی حالات میں منڈانا بہتر نہیں کہ سواء حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کسی صحابی نے سر نہ منڈایا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۔(مرقات) حضرت علی کے سر منڈانے کی حکمت شروع کتاب میں عرض کی گئی۔اس زمانہ میں تو سر منڈانا بہت ہی برا ہے کہ وہابیوں کی علامت ہے،حضور نے وہابیوں کے متعلق ارشاد فرمایا سیماھم التحلیق ان کی علامت سر منڈانا ہوگی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انگریزی بال رکھنا یا قلمیں بنوانا سب ممنوع ہے کہ اس میں قزع ہے۔
|
4428 -[10] وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: لعن الله الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ: «أخرجوهم من بُيُوتكُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر ۱؎ اور مرد بننے والی عورتوں پر لعنت کی۲؎ اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۳؎(بخاری) |
۱؎ مخنث بنا ہے خنث سے بمعنی نرمی یا پیچیدگی۔مخنث وہ لوگ جو ہوں تو مرد مگر ان کی آواز وضع قطع عورتوں کی سی ہو۔ مخنث دو قسم کے ہیں: ایک پیدائشی،دوسرے بناوٹی یہاں بناوٹی مخنثوں کا ذکر ہے انہیں پر لعنت ہے کہ پیدائشی مخنث تو مجبور ہے۔معلوم ہوا کہ مرد کا عورتوں کی طرح لباس پہننا،ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا،عورتوں کی طرح بولنا،ان کی حرکات و سکنات اختیارکرنا سب حرام ہے کہ اس میں عورتوں سے تشبیہ ہے،اس پر لعنت کی گئی بلکہ ڈاڑھی مونچھ منڈانا حرام ہے کہ اس میں بھی عورتوں سے مشابہت اورعورتوں کے سے لمبے بال رکھنا،ان میں مانگ چوٹی کرنا حرام ہے کہ ان سب میں عورتوں سے مشابہت ہے،عورتوں کی طرح تالیاں بجانا،مٹکنا،کوے بلانا سب حرام ہے اسی وجہ سے۔
۲؎ یعنی عورتوں کامردوں کی سی شکل بنانا،ان کا لباس پہننا،ان کی طرح بے پردہ پھرنا حرام ہے لہذا عورتیں بادشاہ یا حاکم نہ بنیں کہ یہ کام مردوں کے ہیں۔
۳؎ یعنی مخنث کو اپنے گھروں میں نہ آنے دو تمہاری عورتیں اس سے پردہ کریں کہ یہ بڑے بدمعاش ہوتے ہیں،پردہ نشین عورتوں کا ذکر غیر مردوں سے کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ مخنث اور مردوں کی ہم شکل بننے والی عورتیں دونوں کو گھروں سے نکال دو اور اپنی عورتوں کو ان سے پردہ کراؤ کہ ایسی عورتیں آوارہ ہیں ان سے پردہ واجب۔(اشعہ)فقہاء فرماتے ہیں کہ آوارہ عورتوں سے شریف عورتوں کا اسی طرح پردہ کرنا فرض ہے جیسے مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے کہ آوارہ عورتیں مردوں سے زیادہ خطرناک ہیں،ایسی آوارہ عورتوں نے شریفوں کے بہت گھر اجاڑ دیئے۔
|
4429 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ والمتشبِّهات من النِّسَاء بِالرِّجَالِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ لعنت کرے ان مردوں پر جو عورتوں کے ہم شکل بنیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی ہم شکل بنیں ۱؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع