دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

منڈآنا عام حالات میں اچھا نہیں احرام کھولتے وقت سنت ہے۔حلق کے بال نہ منڈائے،بھویں اور چہرے کے کچھ کچھ بال الگ کردینا جائز ہے جب کہ ہیجڑوں سے تشبہ نہ ہو،سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈھنا یا کترنا مستحب نہیں۔(مرقات)

۵؎  اس طرح ناخن تراشے کہ ہاتھوں کے پہلے پاؤں کے بعد میں،داہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی شروع کرے چھنگلی تک کاٹ دے پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے شروع کرے انگوٹھے تک کاٹ دے پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن کاٹ دے۔جو کوئی جمعرات کے دن ناخن تراشا کرے ان شاء الله فقیر نہ ہوگا۔حجامت جمعرات کو چاہیے اورغسل تبدیلی لباس خوشبو جمعہ کو افضل ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے جسم پر ناخن کا لباس تھا جنت سے باہر آکر یہ کپڑوں کا لباس عطا ہوا،آپ کا جسم ساٹھ ہاتھ تھا۔(مرقات)

۶؎  بغل کے بال اوکھیڑنا سنت ہے منڈانا جائز،امام شافعی منڈایا کرتے تھے۔ناک کے بال اکھیڑنا ممنوع ہے اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔(مرقات)

4421 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ: أَوْفِرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «أنهكوا الشَّوَارِب وأعفوا اللحى»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مخالفت کرو مشرکین کی ۱؎ ڈاڑھی بڑھاؤ ۲؎ اور مونچھیں پست کراؤ اور ایک روایت میں ہے کہ مونچھیں نیچی کرو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ مشرکین سے مرادکفار ہیں خواہ بت پرست ہوں یا اہلِ کتاب۔مخالفت سے مراد شکل،لباس،وضع قطع سب میں مخالفت ہوسکتی ہے مگر یہاں شکل میں مخالفت مراد ہے جیساکہ اگلی تفسیر سے ظاہر ہے۔یہ امروجوب کے لیے ہے کہ مسلمان کو کفار کی سی شکل بنانا حرام ہے۔

۲؎  اوفروا بنا ہے وفر سے بمعنی بڑھانا زیادہ کرانا،لحی جمع ہے لحیۃ کی بمعنی ڈاڑھی،رخسار اور ٹھوڑی پر جو بال ہیں انہیں لحیہ یعنی ڈاڑھی کہا جاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ڈاڑھی کو ہاتھ نہ لگاؤ اسے بڑھنے دو اس کے بڑھنے کی حد دوسری حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ڈاڑھی کی لمبائی چوڑائی سے کچھ کترتے تھے،اسے حضرت عبداللہ ابن عمر کے فعل شریف نے واضح کیا آپ چار انگلی یعنی مٹھی بھر سے زیادہ کو کٹوا دیتے تھے،دیکھو بخاری کتاب الحج اور شامی وغیرہ۔اگر عورت کے ڈاڑھی نکل آوے تو اس کا اکھیڑ دینا ضروری ہے کہ وہ داڑھی نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ڈاڑھی مشت سے کم کرنا بھی منع ہے اور اس سے زیادہ کرنا بھی منع ہے اور ہر دو کے پیچھے نماز مکروہ۔(مرقات و شامی)

۳؎ احفاء اور اعفاء دونوں کے معنی ہیں بڑھانا۔کفار کی مخالفت کو حضور انور نے مقرر فرمادیا کہ ڈاڑھی بڑھا کر ان کی مخالفت کرو اگرکسی جگہ کے کفار ڈاڑھی رکھتے ہوں جیسے ہمارے ہاں کے سکھ تو انکی مخالفت میں داڑھی مونڈانا حرام ہے کہ مخالفت کو حضور نے مقرر فرمادیا،یہ بھی خیال رہے کہ ایک مشت ڈاڑھی قرآن مجید سے بھی ثابت ہے،حضرت ہارون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا"لَاتَاۡخُذْ بِلِحْیَتِیۡ" میری ڈاڑھی نہ پکڑو۔معلوم ہوا کہ آپ کی ڈاڑھی اتنی تھی کہ پکڑنے میں آجائے وہ مٹھی بھر ہی ہے۔انبیاء کرام کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ خشخشی یعنی بھری ڈاڑھی والے تھے بھری ڈاڑھی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن