30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ جس کے سر پر بال ہوں وہ انہیں پریشان نہ رکھے ان میں کنگھی وغیرہ کرتا رہے۔اس باب میں کنگھی کے علاوہ اور چیزوں کا ذکر بھی ہوگا جیسے خضاب وغیرہ۔
|
4419 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِض |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کنگھی کرتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ جب حضور انور اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر مبارک گھر کی کھڑکی میں داخل فرمادیتے تھے ام المؤمنین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو بھی دیتیں تھیں تیل کنگھی بھی کردیتی تھیں۔معلوم ہوا کہ بحالت حیض عورت کا جسم پاک ہوتا ہے وہ ناپاکی حکمی ہے اور بحالت اعتکاف اپنے بعض اعضاء مسجد سے باہر نکال دینا جائز ہے۔
|
4420 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ونتفُ الإِبطِ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎ ختنہ کرنا ۲؎ استرا لینا ۳؎ مونچھیں کاٹنا۴؎ ناخن تراشنا ۵؎ اور بغل کے بال اکھیڑنا ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ سنت قدیمہ جوگزشتہ انبیاء کرام کا بھی طریقہ رہا ہو اسے فطرت کہتے ہیں گویا وہ انسان کی پیدائشی عادت ہے۔یہاں پانچ کا ذکر حد کے لیے نہیں ہے اس کے علاوہ اور بھی سنتیں انبیاء ہیں جو دوسری احادث میں مذکور ہیں۔
۲؎ ختنہ امام اعظم کے ہاں سنت ہے ،امام شافعی کے ہاں فرض۔(مرقات)سات سال کی عمر تک ختنہ کردینا چاہیے،نو مسلم جوان آدمی کا نکاح ایسی عورت سے کردیا جاوے جو ختنہ کرنا جانتی ہو پھر ختنہ کے بعد چاہے تو طلاق دیدے،جو بچہ ختنہ شدہ پیدا ہو اس کے ختنہ کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ چودہ انبیاء کرام ختنہ شدہ پیدا ہوئے:حضرت آدم،شیث،نوح،صالح، شعیب،یوسف،موسیٰ،زکریا،سلیمان،عیسیٰ،حنظلہ ابن صفوان جو اصحاب رُسل کے نبی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ حضرات ختنہ شدہ ناف بریدہ پیداہوئے،عورتوں کا ختنہ ہمارے ہاں مکروہ ہے۔
۳؎ یعنی ناف کے نیچے اور پاخانہ کے مقام کے بال استرہ سے صاف کرنا سنت ہے مرد کے لیے اور کسی دواء سے صاف کردینا مرد کے لیے خلاف سنت ہے قینچی سے یہ بال کاٹ دینا مردوعورت دونوں کے لیے خلاف سنت ہے،بحالت جنابت کوئی بال کاٹنا مونڈھنا بہتر نہیں۔(مرقات)
۴؎ اوپری ہونٹ کے بالوں کو مونچھ کہا جاتا ہے۔یہ اتنے کاٹے جاویں کہ اوپرے ہونٹ کا کنارہ خوب کھل جاوے،پانی پیتے وقت یہ بال پانی میں نہ ڈوب سکیں،مونچھیں مونڈنا یا بہت زیادہ پست کردینا خلاف سنت ہے۔محیط میں ہے کہ مردوں کو سر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع