دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۲؎ عربی میں خف چمڑے کے موزے کو کہتے ہیں جس پر مسح ہوسکے اور جوراب سوتی اونی ریشمی موزے کو کہا جاتا ہے جو قابلِ مسح نہیں۔اہلِ عرب کبھی چمڑے کے موزے کو جوتے کی طرح استعمال کرتے ہیں،صرف ایک موزہ پہننا کہ دوسرا پاؤں کھلا رہے ممنوع ہے خواہ موزہ چمڑے کا ہو یا سوتی اونی۔

۳؎ کیونکہ داہنا ہاتھ افضل ہے اور کھانا اعلیٰ کام ہے تو اعلیٰ کام افضل ہاتھ سے کرنا بہتر ہے۔عرب میں مالدار سردار لوگ اظہار فخر کے لیے بائیں ہاتھ سے کھاتے تھے اور غرباء مساکین داہنے ہاتھ سے۔اسلام نے سب کے لیے داہنا ہاتھ معین فرمایا کہ اس سے کھایا پیا جاوے۔

۴؎ ایک کپڑے میں لپٹنا اس وقت ممنوع ہے جب کہ اس سے شرمگاہ کھل جاتی ہو اگر شرمگاہ ڈھکی رہے تو مضائقہ نہیں۔

۵؎ اس کی شرح پہلے گزرگئی کہ اس طرح کپڑا اپنے جسم پر لپیٹنا کہ ہاتھ بالکل بند جاویں بہ تکلف کھل سکیں یہ ممنوع ہے ورنہ ممنوع نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

4413 -[7]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ مُثَنًّى شراكهما. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتہ شریف کے دو تسمے تھے جو دوتسموں سے بٹے ہوئے تھے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ قبال اور شراک دونوں کے معنی ہیں تسمہ مگر شراک اکہرے تسمہ کو کہتے ہیں قبال بٹے ہوئے کو یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جوتا شریف میں دو تسمہ ہوتے تھے ہر تسمہ بٹا ہوا،اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق کے نعلین پاک کا حال تھا ایک تسمہ کا جوتا سب سے پہلے حضرت عثمان غنی نے پہنا بیان جواز کے لیے اب مروجہ جوتوں میں تسموں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔اس زمانہ میں چپل کا رواج عام تھا وہ بھی تسمہ والی۔

4414 -[8]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

4415 -[9]وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے کھڑے جوتا پہنے ۱؎ (ابوداؤد)

اور ترمذی و ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے روایت کی۔

۱؎ یہ ممانعت ان جوتوں میں ہے جن کے پہننے میں ہاتھ لگانا پڑتا ہے جیسے آج کل فل بوٹ تسمے والے یا چمڑے کے موزے کہ انہیں کھڑے کھڑے پہنے انکے تسمے باندھنے میں گرجانے کا اندیشہ ہے۔عام معمولی جوتے جو بہ آسانی بغیر ہاتھ لگائے پہن لیے جاتے ہیں وہ کھڑے کھڑے پہننا بالکل جائز ہے جیسے دیسی اور گرگابی جوتے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)

4416 -[10]

وَعَن القاسمِ بن محمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رُبَّمَا مَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا أصحُّ

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت دفعہ ایک جوتہ میں چلے۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ خود آپ ایک جوتہ میں چلیں (ترمذی) اور فرمایا یہ زیادہ صحیح ہے ۳؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن