30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4152 -[4] عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللترمذي وَالنَّسَائِيّ من قَوْله: يَقُول:«عَن الْغُلَام» إِلَّا آخِره وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا صَحِيح |
روایت ہے حضرت ام کرز سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رکھو ۲؎ فرماتی ہیں میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۳؎ تمہیں مضر نہیں کہ نر ہوں یا مادہ ۴؎ (ابوداؤد،ترمذی)اور نسائی نے یہاں سے روایت کی عن الغلام،الخ اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ آپ قبیلہ بنی خزاعہ کے خاندان کعب سے ہیں،مکہ معظمہ کی رہنے والی ہیں۔
۲؎ مکنہ چڑیوں کا وہ مکان جو وہ تنکوں وغیرہ سے بنالیتی ہیں وہاں ہی رہتی بستی ہیں،وہاں ہی انڈے دیتی ہیں۔اہلِ عرب پرندوں کو فال لینے کے لیے ان کے گھونسلوں سے اڑادیتے تھے کہ اسے ششکاری دی اگر وہ داہنی طرف اڑ گیا تو سمجھے ہم کامیاب ہوں گے اگر بائیں طرف اڑا تو سمجھو ہم ناکام ہوں گے یہاں اس سے منع فرمایا جارہا ہے۔
۳؎ غالب یہ ہے کہ یہ جملہ مستقل دوسری حدیث ہے پہلی حدیث کا تتمہ نہیں۔
۴؎ یعنی یہ ضروری نہیں کہ لڑکے کے عقیقہ کے لیے نر بکرے چاہئیں اور لڑکی کے عقیقہ کے لیے مادہ بکری ضروری ہے بلکہ لڑکے کے لیے مادہ مؤنث بکری اور لڑکی کے عقیقہ کے لیے نر بکرے بھی ذبح کئے جاسکتے ہیں،یہ بھی درست ہے کہ لڑکے کے لیے ایک نر بکرا اور دوسری مادہ بکری ذبح کردی جائے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ شاۃ نر اور مادہ دونوں پر بولا جاتا ہے لہذا یہ عبارت ذکراناکن او اناثا بالکل درست ہے۔
|
4153 -[5] وَعَن الحسنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنْ فِي رِوَايَتِهِمَا «رَهِينَةٌ»بدل «مرتهنٌ» وَفِي رِوَايَة لِأَحْمَد وَأبي دَاوُد: «وَيُدْمَى» مَكَانَ: «وَيُسَمَّى» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَيُسَمَّى» أصحُّ |
روایت ہے حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہوتا ہے۲؎ ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور نام رکھا جائے اس کا سر مونڈا جائے ۳؎ احمد،ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔لیکن ان دونوں کی روایت میں بجائے مرتہن کے رھینہ ۴؎ ہے اور احمد و داؤد کی روایت میں نام رکھنے کی بجائے ہے کہ خون سے لتھیڑ دیا جائے ۵؎ ابوداؤد نے کہا یسمّی زیادہ صحیح ہے ۶؎ |
۱؎ خواجہ حسن بصری تابعی ہیں اور حضرت سمرہ ابن جندب صحابی ہیں،ان صحابی کا آخری زمانہ میں قیام بصرہ میں رہا،آپ سے خواجہ حسن بصری اور ابن سیرین وغیرہ جلیل القدر تابعین نے روایات لیں،آپ کے حالات بارہا بیان کیے جاچکے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع