30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ لہذا اپنے پیارے کو سونے کا ہار نہ پہناؤ۔
۴؎ خیال رہے کہ کسی کو سونے کے زیور پہنانے کا یہ عذاب جب ہے جب کہ پہننے والا اس سے راضی و خوش ہو،چھوٹے نا سمجھ بچوں کو اگر زیور پہنائے گئے تو اس کا عذاب پہنانے والوں کو ہوگا نہ کہ ان بچوں کو کہ وہ تو بالکل بے قصور ہیں،رب تعالیٰ بے قصوروں کو نہیں پکڑتا۔
۵؎ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں بھی سونا نہ پہنیں صرف چاندی پہنیں تب یہ حدیث منسوخ ہے ان احادیث سے جن میں عورتوں کو سونا پہننے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہو تو یہ حدیث محکم ہے،اسےبھی کھیل فرمانے سے اشارۃً بتایا کہ چاندی کی انگوٹھی بھی مرد کے لیے بہتر نہیں یہ بھی کھیل کود ہی ہے۔
|
4402 -[20] وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللَّهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اس کی گردن میں اسی طرح آگ کا ہار ڈالا جائے گا قیامت کے دن اور جو عورت اپنے کان میں سونے کی بالی ڈالے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کان میں اسی طرح کی آگ کی بالی ڈالے گا ۱؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یہ حدیث یا تو منسوخ ہے۔اسلام میں اولًا سونا پہننا عورتوں کو بھی ممنوع تھا یہ حدیث اس وقت کی ہے بعد میں اجازت دی گئی۔یا اس سے وہ سونا مراد ہے جس کی زکوۃ نہ دی جائے گی اگرچہ زکوۃ چاندی کے زیور پر بھی ہے مگر اکثر چاندی کا زیور نصاب کو نہیں پہنچتا،آدھ سیر سے زیادہ چاندی کون عورت پہن سکتی ہے،سونا تو ساڑھے سات تولہ ہو تب بھی زکوۃ لازم ہو جاتی ہے اس لیے خصوصیت سے سونے کا ذکر فرمایا گیا۔خیال رہے کہ مذہب حنفی میں پہننے کے زیوروں پر زکوۃ فرض ہے،امام شافعی کے ہاں اس پر زکوۃ نہیں اس لیے شوافع حضرات اس حدیث کو کراہت تنزیہی پرمحمول کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔اول تو اس لیے کہ عورتوں کو سونے کا زیور مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے،دوسرے اس لیے کہ مکروہ تنزیہی پر ایسی وعید نہیں ہوتی لہذا اس حدیث کی وہ ہی توجیہیں قوی ہیں جو ہم نے عرض کیں۔
|
4403 -[21] وَعَن أُخْت لِحُذَيْفَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تُحَلَّيْنَ بِهِ؟ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت حذیفہ کی بہن سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت کیا تمہارے پاس چاندی نہیں ہے جس کے زیور پہنو۲؎ خیال رکھو کہ تم میں کوئی عورت نہیں جو سونے کا زیور پہنے جسے ظاہر کرے۳؎ مگر اسی سے عذاب دی جائے گی۴؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ ان بہن صاحبہ کا نام اور حالات معلوم نہ ہوسکے مگر وہ صحابیہ ہیں اس لیے یہ معلوم نہ ہونا مضر نہیں تمام صحابہ عادل ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع