30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰؎ یعنی جب بچہ دودھ پیتا ہو تو عورت سے صحبت کرنا اگر اس میں اندیشہ ہو کہ اس سے دودھ بھاری ہوکر بچہ کے لیے مضر ہوگا تو اس سے بچے،یہ کام حرام نہیں اس سے احتیاط بہتر ہے اس لیے فرمایا کہ اسے حرام نہ کیا۔محرمہ میں ہ کا مرجع یہ آخری عمل ہے۔
|
4398 -[16] وَعَن ابنِ الزبيرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ فَقَطَعَهَا عمر وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن زبیر سے کہ انکی ایک آزاد شدہ لونڈی زبیر کی بیٹی کو عمربن خطاب کے پاس لے گئی حالانکہ ان کے پاؤں میں جھانجن تھے ۱؎ تو انہیں حضرت عمر نے توڑ دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر جھانجھ کے ساتھ شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی حضرت عبداللہ ابن زبیر کی آزاد کردہ لونڈی ان کی لڑکی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائیں،اس بچی کے پاؤں میں بجنے والے جھانجن تھے۔اجراس جمع جرس کی بمعنی جلاجل یعنی گھنگرو اور اس جیسی آواز دینے والی چیز،اونٹ کے گلے کےگھنگروں اور باز کے پاؤں کے چھلوں کو بھی اجراس یا جلاجل کہتے ہیں۔ہمارے ہندوستان میں بھی پہلے عورتوں میں جھانجن کا رواج تھا۔
۲؎ کیونکہ جھانجن ایک قسم کا باجا ہے اور جہاں باجا ہو وہاں فرشتہ رحمت نہیں ہوتا شیطان ہوتا ہے۔شیطان سے مراد وہ شیطان ہے جو کھیل تماشوں پر مقرر ہے،قرین شیطان تو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔انگوٹھی کے باب میں یہ حدیث لانا نہایت ہی موزوں ہے کہ انگوٹھی ایک قسم کا زیور ہی ہے۔
|
4399 -[17] وَعَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأنْصَارِيّ كانتْ عندَ عائشةَ إِذْ دُخِلَتْ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلُنَّهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تُقَطِّعُنَّ جَلَاجِلَهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ أَجْرَاس» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت بنانہ سے جو عبدالرحمن ابن حیان انصاری کی لونڈی ۱؎ وہ جناب عائشہ کے پاس تھیں کہ آپ کی خدمت میں ایک بچی لائی گئی جس پر جھانجھن تھے جو آواز کررہے تھے۲؎ آپ بولیں کہ اسے میرے پاس ہرگز نہ لاؤ مگر اس صورت میں کہ اس کے جھانجن توڑ دیئے جائیں۳؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں جھانج ہو۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ بنانہ ب کے پیش سے ہے آپ تابعیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت لیتی ہیں اور آپ سے جھانجن کے متعلق ہی روایات آتی ہیں۔(اکمال)
۲؎ اس طرح کہ چلنے کی حالت میں بجتے تھے جیساکہ مروجہ جھانجن میں دیکھا جاتا ہے۔علیہا سے مراد ہے ان کے پاؤں میں جھانجن تھے کیونکہ یہ زیور پاؤں میں پہنا جاتا ہے۔
۳؎ یا اس طرح کہ ان کے اندر کے کنکر نکال دیئے جائیں یا اس طرح کہ اس کے گھنگھرو الگ کردیئے جائیں یا اس طرح کہ خود جھانجن ہی توڑ دیئے جائیں غرضیکہ ان میں آواز نہ رہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع