دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۵؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگر باریک کپڑے میں سے جسم نظر آرہا ہو تو وہ ننگے جسم کے حکم میں ہے اس کو پہن کر نماز نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ عورت کے ہاتھ کلائیوں تک اور چہرہ ستر نہیں مگر اب اجنبی کو اس کا دیکھنا حرام ہے،یہ فرمان عالی پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔زاہد

4373 -[70]

وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: إِنْ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ:«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي الناسِ وأُواري بِهِ عورتي»ثُمَّ قَالَ:هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو مطر سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ جناب علی نے ایک کپڑا تین درہم(بارہ آنہ)کا خریدا پھر جب اسے پہنا تو فرمایا اس الله  کا شکر ہے جس نے مجھے زینت کے لباس میں سے وہ عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں زینت حاصل کروں۲؎  اور اس سے اپنا ستر ڈھانپوں پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم کو اسی طرح کہتے سنا ۳؎(احمد)

۱؎  ابو مطر تابعی ہیں مگر ان کا نام و حالات معلوم نہ ہوسکے۔تقریب میں فرمایا کہ آپ کی ملاقات حضرت علی سے ثابت نہیں لہذا یہ حدیث منقطع ہے یعنی درمیان سے ایک راوی چھوٹ گیا ہے،حجاج ابن ارطات نے کہا کہ آپ ثقہ ہیں۔

۲؎  ریش کے لغوی معنی ہیں چڑیا کے،چونکہ پر اس کے لیے زینت ہیں اس لیے اب بمعنی زینت آتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے: "یُوٰرِیۡ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیۡشًا"یہ ہے امیر المؤمنین علی رضی الله  عنہ کا شکر کہ صرف تین درہم یعنی بارہ تیرہ آنے کا معمولی لباس پہن کر ایسا شکریہ ادا کررہے ہیں۔

۳؎  اسی سنت پرعمل کرتے ہوئے میں بھی یہ کہتا ہوں مسلمان کو چاہیے کہ الله  تعالٰی کی ہر نعمت پر شکریہ اداکرے اعلیٰ ہو یا معمولی۔

4374 -[71]

وَعَن أبي أُمامةَ قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی الله  عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا شکر ہے اس الله  کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپوں اور اس سے اپنی زندگی میں زینت حاصل کروں پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی نیا لباس پہنے پھر کہے شکر ہے اس الله  کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۲؎  پھر پرانے کپڑے کی طرف توجہ کرے اسے خیرات دے۳؎ تو وہ الله  کی پناہ اور الله  کی حفاظت اور الله  کی پردہ پوشی میں ہوگا جیتے مرتے۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن