30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4371 -[68] وَعَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بالعمائم فَإِنَّهَا سيماء الْمَلَائِكَة وأخوها خلف ظهوركم» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ |
روایت ہے حضرت عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم عمامے اختیارکرو ۱؎ کیونکہ یہ فرشتوں کی علامت ہے ۲؎ اور انہیں اپنی پیٹھوں کے پیچھے لٹکاؤ ۳؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ ہمیشہ یا نماز کے وقت عمامہ باندھا کرو۔عمامہ کے ساتھ ایک نماز بغیر عمامہ کی ستر نمازوں سے افضل ہے مگر عمامہ سنت کے مطابق چاہیے کہ ٹوپی پر باندھا جائے مع شملہ کے ہو،عام دنوں میں سات ہاتھ ہو جو جمعہ کی نماز میں بارہ ہاتھ،شملہ آدھی پیٹھ تک ہو سفید ہو یا سیاہ مگر سرخ رنگ کا نہ ہو۔عمامہ کے تفصیلی مسائل عالمگیری وغیرہ میں ملاحظہ کرو۔
۲؎ یا تو فرشتے رحمت کے نوری عمامہ باندھتے ہیں جو ان کی شان کے لائق ہے یا جب شکل انسانی میں آتے ہیں تو عمامہ باندھ کر آتے ہیں۔چنانچہ بدر میں جب غازیوں کی امداد کے لیے آئے تو عمامہ باندھتے تھے،قرآن کریم فرماتاہے:"یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمۡ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ"۔ان کی نشانیاں عمامے تھے،ان کے رنگ زرد تھے،شملے کندھوں پر پڑے تھے۔ (مرقات)
۳؎ حضور صلی الله علیہ وسلم شملہ پشت کے پیچھے لٹکاتے تھے کبھی داہنی جانب سینہ پربھی ہوتا تھا،دونوں طریقے سنت ہیں۔
|
4372 -[69] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَاب رقاق فَأَعْرض عَنهُ وَقَالَ:«يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَنْ يَصْلُحَ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا» . وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب اسماء بنت ابوبکر صدیق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۱؎ ان پر باریک کپڑے تھے۲؎ حضور نے ان سے منہ پھیرلیا۳؎ اور فرمایا اے اسماء عورت جب بلوغ کو پہنچ جائے۴؎ تو جائز نہیں کہ اس کا کوئی حصہ دیکھا جائے سوائے اس کے اور اس کے اور اشارہ فرمایا اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف ۵؎(ابودا ؤد) |
۱؎ حضرت اسماء حضور صلی الله علیہ وسلم کی سالی ہیں یعنی عائشہ صدیقہ کی بہن،حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی صاحبزادی ہیں،یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔(مرقات)
۲؎ ان کی قمیض بھی باریک کپڑے کی تھی جس سے بازو وغیرہ نظر آتے تھے اور دوپٹہ بھی باریک تھا جس سے سر کے بال چمک رہے تھے۔معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں بھی باریک کپڑے ایجاد ہوچکے تھے اب تو بہت ہی برا حال ہے۔
۳؎ یہ منہ پھیر لینا یاتو اظہار ناراضی کے لیے تھا یا نگاہ پاک کی حفاظت کے لیے،حضور صلی الله علیہ وسلم نزول احکام سے پہلے بھی احکام پر عامل تھے۔
۴؎ اس طرح کہ قریب بلوغ ہوجائے مراہقہ،مراہقہ ہونے کی عمر یں مختلف ہیں۔تندرست لڑکیاں جلد اور کمزور لڑکیاں دیر سے اس حد کو پہنچتی ہیں اس لیے لڑکی کے بلوغ کی عمر نو برس سے پندرہ برس تک کی عمر ہے اور لڑکے کے لیے بارہ برس سے پندرہ برس تک،جیسی تندرستی و صحت ویسے ہی بلوغ۔خیال رہے کہ محیض کے معنی ہیں حیض مگر اس سے مراد ہے بلوغ کیونکہ لڑکی کا بلوغ اکثر اس سے ظاہر ہوتا ہے اگرچہ زیر ناف بال اور حمل بھی بلوغ کی علامت ہے،پستان کا ابھار اس کی خاص علامت نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع