30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یہ حدیث بہت طریقہ سے مروی ہے۔بہتر یہ ہی ہے کہ مرد آدھی پنڈلی تک تہبند رکھے اگرچہ ٹخنوں کے اوپر تک بھی جائز ہے۔
|
4369 -[66] وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنا کپڑا تکبرًا نیچا رکھے ۱؎ تو قیامت کے دن الله اس کیطرف نظر نہ فرمائے گا ۲؎ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول الله میرا تہبند لٹک جاتا ہے۳؎ مگر یہ کہ اس کا بہت ہی خیال رکھوں ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے نہیں جو یہ کام تکبرًا کریں ۴؎(بخاری) |
۱؎ کپڑے سے مراد تہبند یا پائجامہ ہے اور نیچے سے مراد ٹخنوں کے نیچے ہے۔تکبرًا فرما کر اشارہ کیا گیا کہ فیشن یا فخر کے لیے یہ حرکت مکروہ تحریمی ہے،بے خیالی میں نیچے ہوجانا اتنا سخت ممنوع نہیں جیساکہ آئندہ مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔غرضیکہ ان قیود سے بہت مسائل معلوم ہوئے۔
۲؎ یعنی نظر رحمت،نظر کرم و عنایت نہ فرمائے گا۔اس کی شرح پہلے ہوچکی۔
۳؎ یعنی میں خود تو نہیں لٹکاتا بلکہ تہبند خود ہی لٹک جاتا ہے شکم کسی قدر بھاری ہے اس لیے پیٹ سے سرک جاتا ہے نہ ارادہ ہے نہ غرور۔
۴؎ یعنی ہم نے تکبروغرور سے تہبند نیچا رکھنے سے ممانعت کی ہے تم کو غرور سے دور کا بھی تعلق نہیں اور پھر قصدًا لٹکاتے بھی نہیں لہذا تم اس حکم کی زد میں نہیں آتے۔
|
4370 -[67] وَعَن عِكْرِمَة قَالَ: رأيتُ ابنَ عَبَّاس يَأْتَزِرُ فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ قُلْتُ لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يأتزرها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے جناب ابن عباس کو دیکھا کہ وہ تہبند باندھتے تو اپنے تہبند کا اگلا کنارہ اپنے قدم کی پشت پر ڈالتے ۲؎ اور اس کے پیچھے سے اٹھاتے میں نے عرض کیا کہ آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں فرمایا اپنے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یوں ہی ازار پہنتے دیکھا۳؎ (ابودا ؤد) |
۱؎ آپ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں وہ تو صحابی ہیں بلکہ آپ عکرمہ تابعی ہیں،حضرت ابن عباس کے کاتب اور آزاد کردہ غلام،فقہاء مکہ معظمہ سے ہیں،اسّی سال عمر پائی، ۱۰۷ ایک سو سات میں وفات پائی۔
۲؎ تہبند باندھنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ اگلے حصہ کا کنارہ زیادہ نیچا ہو حتی کہ قدم پر پڑ جائے اور پچھلا حصہ اونچا ہو اس میں پچھلے حصہ کا اعتبار ہے۔
۳؎ اس طرح تہبند باندھنا حضور سے کبھی کبھی ثابت ہوا ہے۔اس سے صرف حضرت ابن عباس ہی کو اطلاع ہوئی اور صحابی سے یہ عمل ثابت نہیں۔(مرقات)
|
4371 -[68] وَعَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بالعمائم فَإِنَّهَا سيماء الْمَلَائِكَة وأخوها خلف ظهوركم» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ |
روایت ہے حضرت عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم عمامے اختیارکرو ۱؎ کیونکہ یہ فرشتوں کی علامت ہے ۲؎ اور انہیں اپنی پیٹھوں کے پیچھے لٹکاؤ ۳؎ (بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع