دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎  آپ وہ ہی دحیہ کلبی مشہور صحابی ہیں جن کی شکل میں اکثر حضرت جبریل امین آیا کرتے تھے،انہی کو حضور صلی الله  علیہ وسلم نے            ۶؁  چھ ہجری میں قیصر روم کی تبلیغ کے لیے بھیجا تھا،احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے،شام میں قیام رکھا،حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،دحیہ دال کے کسرہ سے ہے۔

۲؎  قباطی جمع ہے قبطیۃ کی۔یہ ایک خاص قسم کے کپڑے کا نام ہے جو باریک سفید ہوتا ہے،مصر میں بنتا ہے اگرچہ قبط قاف کے کسرہ سے ہے مگر قبطی کپڑا  ق کے پیش سے ہے۔غالبًا کہیں سے ہدیۃً آئے تھے خریدے نہ گئے تھے۔

۳؎  معلوم ہوا کہ یہ کپڑے ریشمی نہ تھے سوتی تھے ورنہ مرد کو اس کا پہننا حلال نہ ہوتا۔

۴؎  معلوم ہوا کہ اس زمانہ شریف میں بھی ایسے باریک کپڑے ایجاد ہوگئے تھے جن سے سترحاصل نہ ہوسکتا تھا۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ عورت کو باریک کپڑے کا دوپٹہ اوڑھنا درست ہے۔دوسرے یہ کہ ایسے باریک کپڑے کے نیچے کوئی موٹا کپڑا ضرور سر پر رکھے تاکہ بال و سر ظاہر نہ ہوں ورنہ نماز درست نہ ہوگی اور بے پردگی بھی ہوگی،خاوند کے سامنے تنہائی میں ویسے بھی اوڑھ سکتی ہے۔

4367 -[64]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ: «ليَّةً لَا ليَّتينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی صلی الله  علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے حالانکہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں تو فرمایا ایک پیچ دو نہ کہ دو پیچ ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی اے ام سلمہ دوپٹہ اس طرح اوڑھو کہ سر سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک کا حصہ ڈھک جاوے مگر صرف ایک پیچ سے ڈھکے دو پیچ نہ پھیرو تاکہ مردوں کے عمامہ کے مشابہ نہ ہوجائے اور زیادہ بڑا دوپٹہ نہ اوڑھنا پڑے کہ اس میں اسراف ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بلاضرورت بہت دراز کپڑا پہننا ممنوع ہے،یونہی مردوں کو عورتوں کے مشابہ اور عورتوں کو مردوں کے مشابہ کپڑا پہننا بھی ممنوع،عورتیں مرد لباس وضع قطع میں ممتاز چاہئیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4368 -[65]

عَن ابنِ عمَرِ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ» فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «زِدْ» فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: «إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم پرگزرا حالانکہ میرے تہبند میں درازی تھی ۱؎  تو فرمایا اپنا تہبند اونچا کرو میں نے اونچا کرلیا فرمایا اور زیادہ میں نے اور زیادہ کرلیا۲؎ پھر میں اس کا خیال رکھتا رہا ۳؎  تو بعض قوم نے کہا کہ کہاں تک رہے فرمایا کہ آدھی پنڈلیوں تک۴؎(مسلم)

۱؎  اس طرح کہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہوا تھا جو کہ مرد کے لیے منع ہے۔

۲؎  حتی کہ آدھی پنڈلی تک اٹھ گیا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۳؎  یعنی اس فرمان عالی کے بعد میں نے جب بھی تہبند باندھا آدھی پنڈلی تک باندھا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن